Banana

کیلے کے تنے کے دھاگے اوراس سے اشیاءکیسے بنتی ہیں

کیلے کے تنے کے دھاگے اور اس کی اشیاء

پاکستان میں کیلے کی کاشت نوے ہزار سے ایک لاکھ ایکڑ رقبے پر ہوتی ہے. جس سے سالانہ ڈیڑھ لاکھ ٹن کے قریب کیلا حاصل ہوتا ہے. کیلے کا درخت ایک بار پھل دیتا ہے. پاکستان میں اوسطاً دس ٹن کیلا فی ایکڑ پیدا ہوتا ہے جبکہ فصل کے حصول کے بعد فی ایکڑ تقریباً چالیس ٹن باقیات رہتی ہیں جن میں پتے اور تنے شامل ہوتے ہیں.

صرف تنے کا وزن فی ایکڑ تقریباً پچیس ٹن ہوتا ہے.چونکہ یہ تنا لکڑی کا نہیں بنا ہوتا اس لیے اس کی کیلوریفک ویلیو اتنی کم ہوتی ہے کہ اسے بطور ایندھن استعمال نہیں کیا جاسکتا. لہذا اسے اور کیلے کے درخت کی دوسری باقیات کو تلف کرنا ایک مسئلہ ہوتا ہے. تقریباً سو فیصد کسان اسے دھوپ میں خشک کرنے کے بعد جلا کر اس کا صفایا کرتے ہیں. جس سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے

دوسری طرف قدرت نے اس تنے میں اچھی خاصی مقدار میں ایک بہت ہی زبردست اور مضبوط دھاگہ چھپا کر رکھا ہے جسے موسی ٹیکسٹائلس کہتے ہیں. تنے سے یہ دھاگہ نکالنا انتہائی آسان ہے. ایک چھوٹی سی مشین جسے ریسپاڈور مشین کہتے ہیں، میں کٹے ہوئے تنے کے پرت ڈال کر کھینچنے سے گودہ علیحدہ ہوجاتا ہے اور دھاگہ علیحدہ ہوجاتا ہے. دھاگے کو خشک کرکے گچھیاں بنیادی جاتی ہیں

  • Banana Products

آپ جان کر حیران ہوں گے کہ دنیا بھر میں ایک لاکھ ٹن سالانہ دھاگہ نکالا اور استعمال کیا جاتا ہے. عالمی منڈی کے حساب سے اس دھاگے کی قیمت پاکستانی روپوں میں ایک سو روپے کلوکے قریب ہوگی. اور ایک  مزدور ایک دن میں باآسانی پندرہ سے بیس کلو دھاگہ نکال سکتا ہے

کیلے کے تنے سے حاصل کیا گیا یہ دھاگہ بہت مضبوط، لچکیلا اور ملائم ہوتا ہے. اس دھاگے سے گھریلو استعمال کے تھیلے، دسترخوان، رومال، ٹشوز بچوں کے کپڑے، دستکاری کی اشیاء، چٹائیاں اور اس طرح کی دیگر اشیاء بنائی جاتی ہیں. اس کیلئے علاوہ باغیچوں کی کنوپیوں اور فائبر گلاس کی دوسری اشیاء بنانے کیلئے بھی شیشوں کے دھاگوں کا قدرتی، ماحول دوست اور سستا نعم البدل ہے. اتنی خوبیوں کے حامل اس دھاگے کی فلپائن، بھارت، ویت نام اور ویسٹ انڈین ممالک میں تو بہت پیداوا ہے. مگر وطن عزیز میں ابھی لوگ اس سے بالکل ناآشنا ہیں

ریسپاڈور ایک چھوٹی سی مشین ہوتی ہے جس میں دو لوہے کے چھوٹے رولر ایک بڑا رولر اور ایک چھوٹی موٹر لگی ہوتی ہے. محتاط اندازے کے مطابق اگر اس مشین کو مقامی طور پر تیار کیا جائے تو قیمت پینتیس سے چالیس ہزار سے زیادہ نہیں پڑے گی. یعنی ایک آدمی پینتیس سے چالیس ہزار کی سرمایہ کاری اور مناسب سی مشقت کے ساتھ دن میں دوہزارتک کما سکتا ہ

مزے کی بات یہ ہے کہ دھاگہ نکالنے کے بعد اس تنے میں سے بہت سا گودا اور جو بھی حاصل  ہوتا ہے. گودے کو اینٹوں کے بنے حوض میں ڈال دیا جاتا ہے جس سآرگینک کمپوسٹ تیار ہوتی ہے جو اگل فصل کیلئے بہترین کھاد ہے. تنے کے جوس  میں کچھ کیمیائی مرکبات ملاکر بہت ہی اعلیٰ پائے کی مائع کھاد تیار ہوتی ہے. اسی طرح اس گودے کو مناسب طریقے سے مخصوص عمل سے گذار کر پلپ بھی بنائی جاسکتی ہے جس سے نہ صرف یہ کہ ہلکے معیار کا کاغذ بلکہ پلپ سے بننے والی بہت سی پیکنگ کی اشیاء جیسے انڈوں کی ٹرے وغیرہ بھی بنائی جاسکتی ہیں

بات یہیں تک نہیں رہتی. کیلے کے چھلکوں سے ڈسپوزیبل برتن بنائے جاتے ہیں جو پلاسٹک اور سٹائیرین کے برتنوں کی نسبت بہت زیادہ ماحول دوست اور غیرنقصان دہ ہیں. ڈسپوزیبل برتن بنانے کیلئے چھوٹے سے پریس اور ڈائی کی ضرورت ہوتی ہے جس میں پتہ کاٹ کر رکھ دیتے ہیں اور پریس دبا کر پتے کو مطلوبہ شکل میں ڈھال دیتا ہے. اس دوران ڈائی سے تھوڑا سی حرارت بھی مہیا کی جاتی ہے. ڈسپوزیبل برتن خشک اور سبر دونوں پتوں اور تنوں سے بنائے جاسکتے ہیں

اگر ہم حیدرآباد کے نواح میں جہاں کیلے کی کاشت ہوتی ہے ایک چھوٹا سا ادارہ بناکر لوگوں کو تربیت فراہم کردیں تو یقیناً کیلے کا متروک اور بیکار درخت ایک نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوسکتا ہے جس کے درست استعمال سے بہت سے لوگوں کو برسرِ روزگار کرکے علاقے میں خوشحالی لائی جاسکتی ہے لوگوں کا معیار زندگی بلند کیا جاسکتا ہے

.#pkvillage #businessidea2020 #desistyle #textile

About the author: Shah Mahar

No Gain Without Pain
I am a Muslim and Love Muhammad

Comments

No comments yet