Benazir Bhutto

وہ لڑکی لال قلندر تھی۔

پانچ دن پہلے گڑھی خدا بخش میں بینظیر بھٹو کے مزار پر مجھے ان کی سوانح حیات میں لکھا گیا ایک واقعہ یاد آیا ۔ جس میں بی بی لکھتی ہیں کہ وہ بہت چھوٹی تھیں جب ایک بار ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو ان کو شام کے وقت اپنے گھر کے ساتھ ملحق قبرستان میں لے گئے اور کہا ” پنکی یہاں پر ہمارے آباو اجداد دفن ہیں۔

تم دنیا میں جہاں بھی چلی جاو مگر تمھیں لوٹ کر یہیں آنا ہے اور مرنے کے بعد دفن بھی یہیں ہونا ہے۔ کیونکہ یہ مٹی اور یہ لوگ ہی تمھارا اصل ہیں ۔ اس لیے زندگی میں اپنے اصل کو مت بھولنا”۔پنکی کو اس طرح اپنے بابا کے پہلو میں مدفن دیکھ کر محسوس ہوا کہ انھوں نے کس طرح اپنے بابا کی لاج رکھی کہ دو ہزار سات میں تمام تر دباو کے باوجود اپنی جلا وطنی ختم کر کے ہر طرح کے خطرات کے باجود وہ وطن واپس آئیں ۔ ان کو کہا گیا کہ اگر وہ آئیں گی تو ان کو اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔

ان کے آنے پر اٹھارہ اکتوبر دو ہزار سات کو کارساز کراچی میں ایک بم دھماکہ کر کے سینکڑوں بے گناہ کارکنوں کی جان لی گئی۔

بی بی اس دھماکے میں بال بال بچ گئیں ۔

عورت کیلئے ایک شادی کا حکم کیوں
لڑکی پیاری تو بہت ہے مگر تھوڑی گوری کم ہے
بستر پر نیم دراز ہوتے ہمیشہ کی طرح عادتا میں نے اس کے نمبر پر ٹیکسٹ
Syed Anees shah jeelani

کیونکہ اس وقت وہ ایک ایسی امید بن کر آئی تھیں جو ہمارے ملک کی تقدیر بدل سکتی تھیں۔ مگر کچھ ہی دیر بعد ٹی وی پر ان کی شہادت کی خبر جب چلی تو میں سکتے میں آگیا اور یہی محسوس ہوا کہ میڈیا پر غلط خبر بھی چلا دی جاتی ہے۔ اور کاش یہ خبر بھی غلط ہی ہوتی مگر ایسا نہ ہوا ۔

اس خبر نے دل چیر کر رکھ دیا تھا اور ایک ایسا درد تھا جو برداشت نہیں ہو پارہا تھا۔ بس آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ کیونکہ یہ وہی وقت تھا جب بی بی کو سیاست میں ان کی ہمت اور کردار کی وجہ سے آئیڈیل ماننا شروع کیا تھا کہ وڈیروں اور سرداروں کی سرزمین پر ایک عورت اتنے مردوں کے مقابلے میں آگئی تھی۔

جس کے والد کو بغیر کسی قصور کے پھانسی لگا دیا گیا ۔

اس نے اپنے والد کی اس سیاست کو سنبھالا اور کیا کمال سنبھالا کہ ضیاءالحق جیسا آمر بھی اس کے سامنے نہ ٹھہر سکا۔

پھر جب تک وہ سیاست میں رہیں ، انھوں نے اپنی پارٹی کے کارکنوں سے ویسا ہی برتاو رکھا، جیسا ان کے بابا رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انیس سو چھیاسی میں ضیاء الحق کی آمریت ہو یا پرویز مشرف کا دو ہزار سات کا دور، دونوں دفعہ جب بی بی باہر سے پاکستان آئیں تو ان کا ایسافقید المثال استقبال کیا گیا کہ اسے آج بھی دنیا یاد رکھتی ہے۔

حکومت میں رہ کر بھی ان کا رابطہ اپنے کارکنوں سے نہ ٹوٹتا تھا۔ اور اپوزیشن میں تو وہ اور بھی متحرک ہو جاتی تھیں۔ اس کے ساتھ ان کے اپوزیشن کے ادوار میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے ان پر کیا کیا ظلم نہیں ڈھائے گئے۔ جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔ جیلوں میں ڈالا گیا ۔ کردار کشی کی آخری حدوں کو چھوا گیا ۔

مگر ان با ہمت خاتون نے اس سب کو نا صرف خندہ پیشانی سے برداشت کیا بلکہ اس کے ساتھ اپنے بچے بھی پالے اور سیاسی طور پر متحرک بھی رہیں۔ یہی وجہ ہے یہ سب ظلم ڈھانے والے آج اس سب پر نا صرف شرمندہ ہیں۔ بلکہ بی بی کی سیاست اور کردار کے معترف بھی ہیں۔بی بی کو شہید ہوئے آج بارہ سال ہو گئے ہیں ۔ مگر وہ آج بھی لاکھوں، کروڑوں لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ اور ان کی شہادت میں ملوث پائے جانے والے یا تو اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں یا پھر پہنچ رہے ہیں۔

جنرل پرویز مشرف کا فیصلہ اس کی ایک مثال ہے۔

مگر ان کے جانے سے ایک خلا بھی پیدا ہو گیا جو کہ ابھی تک پُر نہیں ہو سکا۔ اس خلا کا سب سے زیادہ فائدہ عمران خان صاحب کو ہوا۔ کیونکہ دو ہزار آٹھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت بن جانے کے بعد آصف زرداری صدر تو بن گئے ،

تب بھی اگر وہ چاہتیں تو اپنی جان بچانے کےلیے واپس جا سکتی تھیں مگر وہ اپنے بابا کی بات یاد رکھتے ہوئے نہ جھکیں اور نہ ڈریں۔ اور پھر وہ ستائیس دسمبر دو ہزار سات کا دن مجھے بی بی کی قبر پر بیٹھے ہوئے یاد آیا جب پنجاب یونیورسٹی سے چھٹیوں کی وجہ سے میں اپنے گاوں میں تھا۔ اور بی بی کی لیاقت باغ کے جلسے میں کی گئی تقریر سنی ۔ اور تھوڑی دیر بعد ہی خبر آئی کہ وہاں پر بم دھماکہ ہو گیا ہے اور بی بی شدید زخمی ہیں۔ اضطراب کی اس کیفیت میں دل سے دعا نکلی کہ مولا بی بی کو بچا لے۔

مگر وہ لیڈر نہ بن سکے۔ میاں نواز شریف کو دو چانس پہلے مل چکے تھے۔

Benazir Bhutto
Political views Elections 1988 1990 1993 1997 Prime Minister of Pakistan
Books written Daughter of Destiny: An Autobiography Reconciliation: Islam, Democracy,

اس لیے کافی لوگوں نے عمران خان سے امیدیں لگا لیں کہ وہ اب لیڈر بن کر ملک کے حالات سنواریں گے۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ عمران خان صاحب میں ایسی صلاحیت ہی نہیں تھی کہ وہ اس خلا کو پُر کر سکتے ۔اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بی بی اگر آج زندہ ہوتیں تو عمران خان صاحب کو کسی نے پوچھنا بھی نہیں تھا۔ اور ہمارے ملک کے حالات بھی اس وقت بہت اچھے ہوتے۔

اب بلاول اگر اپنے والد آصف زرداری کی سوچ سے آزاد ہو کر اگر اپنے نانا اور اپنی ماں کی سوچ اور فلسفے کو مکمل اپنا لیں تو شاید وہ کچھ بہتری لا سکیں۔ستائیس دسمبر کا دن اب ہمیشہ کےلیے کرب ، دکھ اور غم کا دن بن گیا ہے ۔

کیونکہ اس دن جس پاپا کی پنکی کو موت کی نیند سلایا گیا تھا۔ اس نہتی لڑکی نے بندوقوں والوں کو ڈرا دیا تھا۔ اور ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی دفعہ ڈرایا۔ یہی وجہ تھی کہ انھی بندوقوں والوں نے چھپ کر اس پر وار کیا ۔ کیونکہ وہ اس کی ہمت، حوصلے اور جذبے کو برداشت نہیں کر پارہے تھے۔

ان کو پتا تھا کہ اس دفعہ اگر بی بی کو موقع مل گیا تو پھر شاید کبھی ان کی دال نہ گل پائے ۔

اسی لیے تو انھوں نے یہ گھناونا جرم کیا۔ مگر بی بی کی سوچ کو وہ ختم نہ کرسکے کیونکہ آج بی بی میرے جیسے لاکھوں لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

یہی کچھ حسن مجتبیٰ صاحب کی نظم کے ان ٹکڑوں میں کہا گیا ہے:

وہ لڑکی لال قلندر تھیقریہ قریہ ماتم ہے اور بستی بستی آنسو ہیںصحرا صحرا آنکھیں ہیں اور مقتل مقتل نعرہ ہے

وہ قوم کی بیٹی تھیجو قتل ہوئی وہ خوشبو ہےوہ عورت تھی یا جادو تھیوہ

مردہ ہوکر زندہ ہےتم زندہ ہوکر مردہ ہووہ دکھی دیس کی کوئل تھیوہ !

لڑکی لال قلندر تھی

About the author: Shah Mahar

No Gain Without Pain
I am a Muslim and Love Muhammad

Comments

No comments yet