منڈیوں میں آڑھتی کسان کو کس طرح الو بناتے ہیں

ایک کسان نے شب و روز کی محنت کے بعد دو ایکڑ کریلہ کی سبزی کی فصل تیار کی۔

موسمی اثرات سے پروا ہو کر دن بھر کی مشقت سے اسے توڑا اور آدھی رات کے بعد اپنی گڈ، گدھا ریڑھی یا ٹریکٹر ٹرالی کے ذریعہ اسے منڈی میں اس آڑھتی کے تھڑے تک پہنچایا جس سے پیشگی رقم کے کر اس نے اپنے اخراجات پورے کئے

آڑھتی کا منشی اور پلے دار اسے دیکھتے ہی چلائے بھائی رفیق آج کیوں توڑ لایا کریلے یار ۔۔۔ آج کل تو ریٹ ہی نہیں۔۔

چل خیر لے آیا ہے تو اب اتار۔۔
پلے دار سبزی اتار کر تھڑے پر رکھتے اور بھائی رفیق کی جانب گھورنے لگے۔۔۔ کیونکہ انہیں زمیندار سے ناشتہ چائے چاہئے تھی۔۔

انہیں کچھ دے دلا کر وہ تیزی سے واپس پلٹا کیونکہ جا کر ڈھور ڈنگر کے چارے کا انتظام کرنا تھا۔۔۔
بولی کا وقت شروع ہوتا ہے۔۔

اسسٹنٹ کمشنر صاحب کا کارندہ موٹا سا رجسٹر اور بڑا سا تھیلا اٹھائے موٹر سائیکل سے اترتا ہے کئی آڑھتیے لپک کر اس کی جانب بڑھتے ہی تاکہ اسے “محفوظ” جگہ بٹھا کر اجناس کی طلب و رسد کا حساب “سکون” سے بنا لینے دیں۔


انجمن آڑھتیاں کا صدر اس کا تھیلا اپنے منشی کو دے کر کہتا ہے اوئے منشی دیکھ سبزی اور پھلوں سے بھر کر لائیو۔۔ اور دیکھنا شکایت نہ آئے۔۔

جی صاحب فکر نہ کریں کہتا ہوا وہ تھڑے کی جانب بڑھ جاتا ہے۔۔

باہر بولی شروع ہوتی۔۔ آڑھتیوں کے اپنی ہی کارندے بھی بولی میں حصہ لے رہے ہوتے۔۔۔ اعلی کوالٹی کے پھل اور سبزیوں کی بولی ہمیشہ انہی کارندوں کے نام دن ہو جاتی۔۔۔ وہ پھر ایک جگہ ڈھیر لگا کر اپنی من مرضی قیمت میں چھوٹی پھڑیوں اور دکان والوں کو بیچ رہے ہوتے۔۔۔

کدو اس دن واقعی زیادہ مقدار منڈی آ گئے تھے اس لئے ریٹ کم تھا مگر اس کا حل بھی تھا آڑھتی کے پاس۔۔۔

جس جس تھڑے پر کریلہ زیادہ پڑے تھے سب ڑھتیوں نے آدھے سے زیادہ اٹھا کر اپنی اپنی دکانوں میں چھپا دیے اور شور ڈال دیا کریلہ شاٹ ہوگئے منڈی سے۔۔۔

دیکھتے ہی دیکھتے قیمت ٹرپل ہو گئی۔۔۔۔ اور آڑھتی مسکراتے ہوئے اپنی اپنی دکانوں میں گھس گئے۔۔
پا رفیق نے فارغ ہو کر منشی کو فون کیا کہ بھائی میرے کریلے کتنے کے بکے۔۔؟

منشی بولا کہاں بکے یار آدھے سے زیادہ تو دکان میں پڑے ۔۔ تمھیں کہا بھی تھا غلط دن توڑ لائے ہو۔۔ پندرہ سو کی تاریخ ہے تمھاری آج کی کاپی پر نوٹ کرنا۔۔۔۔

پا رفیق بے چارہ سوچ میں پڑ گیا یار آج کی تو تڑوائی اور منڈی تک پہنچانے۔ کا خرچ ڈھائی ہزار تھا وہ بھی پورا نہیں ہوا۔۔۔
چلو خیر اللہ وارث ہے شاید اگلی تاریخ اچھی لگ جائے۔۔


دوسری طرف وہی سبزیاں اور پھل آڑھتی اپنے کارندوں کے ذریعہ مہنگا بیچ کر لاکھوں کی دیہاڑی لگا کر مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے نہاری اور سری پائے کے ناشتے اڑا رہے اور اسسٹنٹ کمشنر کا کارندہ اپنا تھیلا پیچھے رکھے گھر کی جانب بھاگ رہا ہوتا ۔

کیونکہ پھل اور سبزیاں گھر پہنچانے کے بعد اسے صاحب کو رپورٹ بنا کر دینی ہوتی جس رپورٹ کی روشنی میں روزانہ کی قیمتیں مقرر کی جانی ہوتیں۔

یہ تحریر لکھنے کا مقصد صرف ہے کہ مہنگائی کرنے والے کل بھی اپنا کام ڈال رہے تھے اور آج بھی ڈال رہے ہیں۔ یہ سب کچھ ایک منظم انداز میں کیا جاتا ہے اور بیوروکریسی “رپورٹ” بنانے میں ماہر ہے۔ بڑوں کو کیسے مطمئن کرنا وہ یہ بھی جانتے ہیں اور لوگوں کو لوٹنا کیسے یہ بھی خبر رکھتے۔


حل بہت سادہ اور آسان
حکومت اس طرف گئی بھی تھی ہر منڈی میں کسان کاؤنٹر
مگر وہ آجکل کس حال میں ہیں کچھ پتہ نہیں۔ ہاں البتہ ان کاونٹرز کی مد میں روزانہ اٹھنے والے اخراجات آج بھی وصول ہو رہے ہیں۔

About the author: Shah Mahar

No Gain Without Pain
I am a Muslim and Love Muhammad

Comments

@peepso_user_74(Muhammad Ismael)
Nice 👍
02/10/2021 10:03 am
@peepso_user_50(sajid Malik)
Right
02/10/2021 10:13 am