first night of marriage

شادی کی پہلی رات غلطیوں کا احساس ہوجاۓ گا

*”شادی کی پہلی رات غلطیوں کا احساس ہوجاۓ گا”*


اس شخص کو اپنی غلطیوں کا احساس پہلی رات ہی ہوجاۓ گا جب وہ کمرے میں جاۓ گا تو اسکی بیوی اس سے بلکل نہیں شرماۓ گی،

اس شوہر کو بیوی کی گھبراہٹ کا قطعی احساس نہیں ہوگا،

دونوں خوش ضرور ہیں لیکن وہ خوشی جس سے انسان پھولے نہیں سماتا وہ اس خوشی سے محروم ہوچکے ہیں۔

یہاں بس نہیں ہوجاتی۔ آنے والی زندگی میں مذید خزاں کے موسم آنے ہیں کہ شوہر محسوس کرے گا

بیوی میری عزت نہیں کرتی، میرا کہنا نہیں مانتی یہ صرف اپنی ہی چلاتی ہے، دوسری طرف بیوی نے بھی برابر کا جواب رکھنا ہے کہ آپ شادی کے بعد بلکل بدل گۓ ہو

میں جس شخص سے باتیں کیا کرتی تھی وہ کوئ اور تھا، جس سے شادی ہوئ وہ کوئ اور ہے،

کہاں گۓ آپ کے سارے وعدے ساری قسمیں۔ پھر شوہر بھی دفاعی انداز میں کہتا ہے کہ شادی کے بعد ذمہ داریاں آگئ ہیں تمام معاملات کو دیکھنا پڑتا ہے اور آیئں بایئں شایئں روزانہ نہیں تو ہفتے میں دو سے تین بار کی کہانی ضرور ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جو منگنی کے بعد مسلسل اپنی منگیتر کے ساتھ گھنٹوں گھنٹوں رابطے میں رہتے تھے۔

جنہوں نے اللہ کے احکامات اور رسول اللہﷺ کے فرمان کو سن کر عمل کرنے سے انکار کیا اور نا انہوں نے دن دیکھا نا رات دیکھی کہ مسلسل بغیر نکاح منگیتر سے موبائل پر رابطے قائم ہیں، الگ الگ پوز بناکر ایک دوسرے کو تصاویر بھیجی جارہی ہیں، بے ہودہ سٹیٹس لگاۓ جارہے ہیں،

اور تو اور تحفے تحایف کی لین دین اعلی سطح پر ہے کہ منگیتر کو مہنگا موبائل گفٹ کیا جا رہا ہے، لڑکی نے لڑکے کو کڑھائ والا سوٹ بھیجا ہے کہ یہ سوٹ تم پر زیادہ اچھا لگے گا۔ اتنا ہی نہیں، بعض لوگ تو ملاقات کرنے جیسی سنگین غلطیاں کر بیٹھتے ہیں اور کچھ لوگ تو حد سے تجاوز کرجاتے ہیں کہ نکاح سے پہلے ہی منگیتر کو ناپاک کردیتے ہیں۔

یقین کریں انکی ازدواجی زندگی میں کوئ برکت نہیں ہونے والی کیوں کہ انہوں نے نکاح سے پہلے ہی منگیتر سے رابطے قائم کرکے شرم و حیا کو ایک طرف پھینک دیا، سب جانتے ہوۓ نکاح کی برکتوں سے منہ پھیر لیا،

احکام اللہ و ہدایات رسولﷺ کو پسِ پشت ڈال دیا، اپنے بڑوں کی روایات کو بری طرح رسوا کیا۔ شہزادی ابھی شہزادے کے نکاح میں نہیں آئ اور یہاں دونوں کی گفتگو ہے جو کہ ختم ہو کر نہیں دے رہی۔

نکاح سے پہلے اِن لڑکا لڑکی کے رابطے نے نہ صرف ان کی ازدواجی زندگی کا سکون چھینا، خیر چھینی، برکتیں چھینی بلکہ انہیں گناہ کبیرہ کا مرتکب بھی ٹھہرا دیا۔

واللہ میرے بھایئوں! میری بہنوں! تمہیں خداکا واسطہ ہوش کے ناخن لو، نفس کے ہاتھوں اتنے کمزور نہ بنو۔ جہاں اتنے سال انتظار کیا وہاں تھوڑا اور صحیح۔ ذرا حلال ہوجانے دو، ذرا قدرت کی مہر لگ جانے دو، لیکن اس سے پہلے جان لو یہ مکمل بے حیائ، یہ مکمل بے شرمی تمہیں لے ڈوبے گی۔



شادی سے پہلے منگیتر سے بات کرنے کے بے حد نقصانات ہیں



کہ تم دونوں ایک دوسرے کے دل میں اپنی عزت اپنا مرتبہ اپنا مقام کھو دو گے۔ نکاح سے پہلے تمہارا یہ رابطہ تمہیں ایک دوسرے کی نظر میں کھول دے گا پھر تم بے حجاب ہوجاؤ گے، بے جھجھک ہوجاؤ گے، بے تکلف ہوجاؤ گے، بے ادب ہوجاؤ گے، اور ان سب کا نتیجہ شادی کے بعد نظر آۓ گا، پھر بیوی کی نظر میں وہ شوہر شوہر نہیں رہتا اور شوہر کی نظر میں بیوی بیوی نہیں رہتی۔ وہ شرم، وہ حیا، وہ ادب، وہ عزت سب ختم ہوکر رہ جاتا ہے۔

اتنا ہی نہیں، تمہاری اِن بد اعمالیوں کا اثر سیدھا تمہاری اولاد پر بھی ہوگا۔

نکاح کے بعد ہی بیوی کو دیکھنا بیوی سے بات کرنا بیوی سے ملاقات کرنا درحقیقت عزت، ادب، اخلاق اور غیرت مندی کا مظاہرہ ہے، یہی لوگ کامیاب اور خوشگوار ازدواجی زندگی گزارتے ہیں کہ دونوں منگیتر ہمکلام نا ہوۓ، انہوں نے اللہ کے احکامات اور رسول اللہﷺ کے فرمان کو اولین ترجیح دی، یہ شرم و حیا کے پیکر بنے رہے،

انہوں نے بذرگوں کی روایات کو سامنے رکھا، فحاشی کے اس دور میں بھی نفس کے ساتھ لڑتے رہے اور اب انکی زندگی خوب سے خوب تر ہونے کو ہے

خدا گواہ ہے کہ بے شمار برکتیں اور رحمتیں انکے نکاح کا انتظار کررہی ہیں۔
رب تعالی عمل کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین

About the author: Shah Mahar

No Gain Without Pain
I am a Muslim and Love Muhammad

Comments

No comments yet