how to grow crop in desert with chemical

نانو کلے’: وہ کیمیائی مائع جس نے صحرا کو لہلہاتے کھیتوں میں تبدیل کر دیا

crop in desert

سمندر میں گرنے سے پہلے والی جگہ جہاں سے دریائے نیل کئی حصوں میں تقسیم ہوتا ہے، وہاں کی مٹی کی زرخیزی سے متاثر ہو کر ماہرین وہاں کی مٹی کے اجزا، پانی اور مقامی مٹی کے مرکب سے اب صحرا میں پھل اُگا رہے ہیں۔

رواں برس مارچ میں جب پوری دنیا کووِڈ 19 کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند ہو گئی تھی تو دنیا کے ایک حصے متحدہ عرب امارات میں ایک بہت ہی قابلِ ذکر تبدیلی اپنے انجام کو پہنچی۔

صرف 40 دنوں میں ریت کے ایک قطعہِ اراضی پر جو کبھی خشکی سے گھری ہوئی قوم کے صحرا کا حصہ تھا،

اب عرب کے سورج کی تپش میں پکے ہوئے میٹھے تربوزوں سے بھرا ہوا تھا۔

جب آپ نے ایک مرتبہ مٹی کی ذرات کو مستحکم کر لیا اور غذائیت کے حیاتیاتی اثر پذیری کو حاصل کرلیا تو آپ وہاں اگلے سات گھنٹوں کے اندر فصل لگا سکتے ہیں۔’

اس دوران پندرہ برسوں تک اس ٹیکنالوجی کو تشکیل دینے میں صرف ہوئے اور جبکہ اس کو آزادانہ طریقے سے دبئی میں انٹرنیشنل سینٹر فار بائیوسیلائن ایگریکلچر (آئی سی بی اے) میں ٹیسٹ کر کے تجارتی بنیادوں پر استعمال کرتے ہوئے ابھی صرف بارہ ماہ گزرے ہیں۔

‘اب ہمارے پاس اس کی موثر ہونے کے سائنسی شواہد موجود ہیں، ہمارا ہدف یہ ہے کہ چالیس فٹ کے کنٹینروں میں موبائل قسم کی فیکٹریاں لگا کر بالآخر کم از کم اتنی تبدیلی لا سکیں گے جتنی ممکن ہو سکے۔

یہ موبائل یونٹس جس ملک میں ضرورت ہوگی وہیں کی زمین کی مٹی کو استعمال کرتے ہوئے وہیں مقامی سطح پر مائع حالت میں نانو کلے تیار کریں گی۔‘

ان فیکٹریوں میں سے پہلی ایک فیکٹری چالیس ہزار لیٹر مائع نانو کلے تیار کرنے کے قابل ہو گی اور متحدہ عرب امارت کے پارک لینڈ میں استعمال کے لیے نصب کی جائے گی کیونکہ یہ ٹیکنالوجی پانی کے استعمال کو 47 فیصد تک کم کرسکتی ہے۔

اس وقت اس کے شروع کرنے کی قیمت تقریباً دو ڈالر فی مربع میٹر ہے جو کہ متحدہ عرب امارات جیسے ایک امیر ملک کے کھیتوں کے لیے قابل قبول ہے۔

لیکن جہاں اس کا اصل فائدہ ہو سکتا ہے مثلاً افریقہ کا صحرا ‘سب صحارا’، اس کے لیے سیورٹسین کو مزید کام کرنا ہو گا کہ اس کی قیمت کو کس طرح کم کیا جا سکتا ہے۔

افریقہ کے کسانوں کے پاس اس حل کو خریدنے کے لیے اتنی رقم ہی نہیں ہو گی۔

یہ علاج پانچ برس تک اپنا اثر برقرار رکھ سکے گا،

اس کے بعد اس زمین کو پھر سے اسی علاج کی ضرورت ہو گی۔زیادہ پیداواریت سے اس کی قیمت میں کمی واقع ہو سکتی ہے،

جسے بالآخر 0.20 ڈالر فی مربع میٹر تک لانے کا ہدف ہے۔

بس فرق یہ تھا کہ یہ سارا عمل سادگی کے ساتھ نہیں ہوا تھا —

یہ تربوز صرف اسی لیے اُگ سکے کیونکہ یہاں ‘نینو کلے’ (نانو طین یا مٹی) کا استعمال ہوا، جو کہ زمین کو زرخیز بنانے کی ایک ٹیکنالوجی ہے جس کی کہانی اس جگہ سے پندرہ سو میل مغرب میں چند دہائیاں پہلے شروع ہوتی ہے۔

دریائے نیل میں ہر برس گرمیوں میں سیلاب آتا ہے –

اور ایک تحقیق کے دوران سیلاب کے پانی کے اُترنے پر جب سائنس دانوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس کی زرخیزی میں کمی کیوں آئی،

انھوں نے دریافت کیا کہ سیلاب کے پانی میں مشرقی افریقہ کے قدرتی نکاسیِ آب کے نظام سے معدنیات، غذائیت اور خاص کر مٹی کے ذرات شامل ہوتے تھے جو دریائے نیل کو مالا مال کرتے اور پورے ڈیلٹا کی زمین پر اس مٹی کی ایک نئی تہہ بچھ جاتی تھی۔

یہ مٹی اس زمین کو طاقتور بناتی اور اس کی زرخیزیت کو نمو دیتی تھی۔

جب مصر کے جنوب میں دریائے نیل پر اسوان ڈیم تعمیر کیا گیا تھا۔

اس ڈھائی میل چوڑے ڈیم کی تعمیر پانی سے بجلی بنانے اور سیلاب کے پانی کو منظّم کرنے کے لیے کی گئی تھی۔

لیکن اس نے پانی میں بہہ کر جانے والے اچھے اجزا کو آگے جانے سے روک دیا۔ہر سال نئی تہہ بننے کا یہ عمل ایک دہائی تک رُکا رہا،

اور اس دوران اس مٹی میں جو قدرتی زرخیزیت تھی وہ استعمال ہو کر ختم گئی۔

How to start potato flakes business
لسی کی گولیاں اور تربوز کا پاؤڈر
کیلے کے تنے کے دھاگے اور اس کی اشیاء
خالص شہد کی پہچان
کیوی پھل کی کاشت

‘ڈیزرٹ کنٹرول’ نینو کلے کے استعمال کے ذریعے صحرا کی بنجر زمین کو ‘ریت سے امید’ میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کا نام ہے۔اس طرح مٹی کو زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے استعمال کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ کسان ہزاروں سالوں سے ایسا کرتے آرہے ہیں۔

البتہ گاڑھی اور بھاری مٹی کے ساتھ زمین کو بہتر کرنا تاریخی طور پر ایک بہت ہی محنت طلب کام رہا ہے اور اس سے زیرِ زمین کے ماحولیاتی نظام متاثر ہوتے رہے ہیں۔

ہل چلانے، زمین کی کھدائی اور مٹی کو اوپر نیچے کرنے کی ایک اپنی ماحولیاتی قیمت ادا کرنا پڑی ہے کیونکہ زمین میں دبی ہوئی کاربن کو آکسیجن لگ جاتی تھی

اور اس طرح یہ کاربن ڈائی آکسائد بن کر ہوا میں تحلیل ہو جاتی ہے۔

‘مٹی کو کھودنے یا اس پر کاشت کے دوران اس میں فنگس کا یہ سٹرکچر ٹوٹ جاتا ہے جسے دوبارہ بننے میں کافی وقت لگتا ہے،

اور جب تک یہ دوبارہ بنتا ہے زمین کی صحت خراب ہونے کے اور اس کی غذائیت کے ختم ہوجانے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔’

مٹی ایک ناپائیدار حیوان کی طرح ہو سکتی ہے۔

اگر بہت کم مقدار میں ہو تو شاید اس کا کوئی اثر نہ ہو۔ اگر بہت زیادہ ہو گی تو یہ ریت کے اوپر پانی سے مزاحمت کرنے والی ایک سطح بن جاتی ہے یا اس کے سخت ہوجانے کے زیادہ امکانات ہو جاتے ہیں۔

‘زمین کے نامیاتی اجزا ہمیشہ ارتقا کر رہے ہوتے ہیں، لیکن ایک کم سے کم سطح کا مستحکم کاربن ایک صحت مند زمین میں ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔ اس کے برعکس مائیکرو بائیولوجی کس طرح نامیاتی اجزا کو تیزی سے بدلتی ہے۔‘

بائیو چار ایک مستحکم کاربن ہے جو زمین کو اس کی غذائیت برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے جو کہ کسی پودے کے اگنے کے لیے بہت اہم ہوتی ہے۔ یہ تیزی سے مستحکم کاربن کے عناصر کو متعارف کراتی ہے جنھیں دیگر صورت میں بننے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہے۔’بائیو چار زمین کی ساخت کو بحال کرکے پودے کی نشو و نما میں اس کی مدد کر سکتا ہے، خاص کر کھاد سمیت دیگر نامیاتی مواد کے ساتھ مل کر۔’

وہ کہتی ہیں کہ یہ بہت زیادہ زرعی پیداواریت کے نتیجے میں یا کان کنی یا آلودگی کی وجہ سے نامیاتی اجزاء کھودینے والی زمین کی صحت بحال کرنے میں مدد کر سکتا ہے،

بشرطیکہ آلودگی کے زہر کو پہلے ٹھیک کردیا جائے۔زمین کی بحالی کے لیے جو دیگر طریقے استعمال کیے جاتے ہیں ان میں ایک طریقہ تو آ ب دار سلیکا نمک ہے جو عام ابرقوں کے تغیر سے بنتا ہے اور خاص طور پر حرارت کو محفوظ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

دوسرا ابرق جسے پتھروں سے نکالا گیا ہو اور حرارت دی گئی ہو تاکہ وہ پھیل جائے۔ اس سے بننے والے سپونج جیسے نرم اور مسام دار مادے اپنے سے تین گنا زیادہ پانی کے وزن کو جذب کرنے اور اس کو کافی دیر تک رکھنے کی صلاحت کے حامل ہوتے ہیں۔

اس دوران بعض پودوں کی جڑوں میں پانی کو بہت زیادہ جذب کرنے کی صلاحیت رکھنے والے کثیر سالمی مرکب کے دانے بھی رکھے جا سکتے ہیں تاکہ ان میں ان کے وزن سے زیادہ پانی کچھ عرصہ کےلیے وہاں رہ سکے۔تاہم ان دونوں طریقوں کے لیے پودے لگانے کے لیے زمین کی کاشت کرنا ضروری ہے جس کے کچھ اپنے نقصانات بھی ہیں۔

متحدہ عرب امارات کا رخ کرتے ہیں جہاں قریب رہنے والے لوگوں نے صحرائی زمین کو قابلِ کاشت بنانے کی اس ترکیب سے کافی استفادہ کیا ہے۔نانو کلے کی مدد سے تیار کی گئی فصل کی آمد سے اس وقت بہت ہی غیر متوقع خوشی ہوئی جب کووِڈ 19 کی وجہ سے کئی ساری پابندیاں عائد ہو گئی تھیں۔

کلو گرام200 تربوز، گھیا، توری اور باجرے کی ایک فصل صرف ایک ایکڑ کے پانچویں حصے میں آزمائشی کاشت سے حاصل ہوئی اور یہ اتنی خوراک تھی کہ یہ ایک گھر کے لیے کافی تھی۔سیورٹسن کا کہنا ہے کہ ‘متحدہ عرب امارات میں لاکڈاؤن بہت سخت تھا اور ان کی درآمدات کا حجم بہت کم ہوگیا ہے،

جس کا مطلب یہ ہوا کہ تازہ اشیا کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی۔ ہم نے آئی سی بی اے اور ریڈکراس کی ٹیم کے ساتھ کام کیا تاکہ وہاں قرب و جوار میں رہنے والے خاندانوں کے لیے تازہ تربوز اور گھیا و توری حاصل کیے جا سکیں۔

ہمارا ہدف یہ ہے کہ اس کی زیادہ غذائیت کے لیے آزمائش کی جائے جس کے بارے میں ہمارا اندازہ ہے کہ ان حالات میں اگائی گئی فصل سے شاید حاصل ہو، لیکن اس کے لیے اگلے آزمائشی پلاٹ کی پیداوار کا انتظار کرنا پڑے گا۔’

About the author: Shah Mahar

No Gain Without Pain
I am a Muslim and Love Muhammad

Comments

No comments yet