Apple piece for juice

How to make apple vinegar at home

سیب سے سرکہ بنانا اتنا ہی آسان ہے جتنا اچھی چائے بنانا

apple

انگریزی میں کہتے ہیں نا ایک سیب روزانہ معالج کو دور بھگانا اس کی وجہ سیب کا عارضِ محبوب سا پیکر نہیں بلکہ اس میں موجود زبردست غذائیت ہے. سیب میں حیاتین، نمکیات، فائبر ،اینٹی آکسیڈنٹس، فلیونائیڈز اور کاربوہائیڈریٹس ہوتے ہیں.

یوں سمجھ لیں کہ قدرت کی طرف سے انسانوں کے لئے بہت بڑا تحفہ ہے.

پاکستان میں شمالی علاقہ جات کے بہت بڑے رقبہ کے علاوہ مغربی علاقوں جیسے کوئٹہ، چمن ا وردیگر ملحقہ علاقوں میں بہت عمدہ معیار کے بہت زیادہ سیب پیدا ہوتے ہیں. لیکن وہی بات کہ پچیس سے تیس فیصد یا شاید اس سے بھی زائد سیب جو کہ نسبتاً کم میعار کا ہوتا ہے

یا تھوڑا بہت ذخمی یا نشان زدہ ہو جاتا ہے اس کو منڈیوں تک پہنچنے میں جتنا خرچ آتا ہے، اس کے معیار کی وجہ سے اسکی اتنی قیمت نہیں مل پاتی. سو سیب پیدا کرنے والے علاقوں میں ایسا سیب موسم میں بیس تیس روپے فی کلوگرام ہم نے بکتے ہوئے دیکھا ہے.

دوسری طرف احادیث میں سرکہ کی اس قدر افادیت بیان کی گئی کہ ہم اگر باعمل مسلمان ہوں تو کسی ایک گھر کو بھی سرکہ کے بغیر نہیں ہونا چاہیے. آقا کریم نے فرمایا سرکہ بہترین سالن ہے اور وہ گھر کبھی مفلس نہ ہوگا جس میں سرکہ ہو. لیکن سرکہ وہ نہیں جو کیمیائی بازار میں دستیاب ہے.

یعنی پتلا کیا ہوا ایسٹک ایسڈ. دنیا بھر میں سیب سے سب سے زیادہ سرکہ بنایا جاتا ہے.

اور سیب کے سرکہ میں سیب کی ساری غذائیت بھی شامل ہوتی ہے. فی الحقیقت یہی وہ سرکہ جو انسانی صحت کے لیے بہت مفید ہے.

حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ تیرہ لاکھ ٹن سالانہ پیداوار کے ساتھ دنیا میں دسویں نمبر پر سیب پیداکرنے والے اس ملک میں قدرتی سرکے کی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے. اور بازار میں جو قدرتی سرکہ دستیاب ہے وہ سب امریکی ہیں اور ایک ہزار روپے فی کلو فروخت ہورہے ہیں.

سیب سے سرکہ بنانا اتنا ہی آسان ہے جتنا اچھی چائے بنانا.

میری خواہش ہے کہ سیب کی پیداوار کے سب علاقوں میں رہنے والی خواتین سرکہ بنانے کی ماہر ہوں اور ہر گھر میں سیب کے موسم میں سرکہ تیار کیا جائے.

جو نہ صرف وطنِ عزیز میں ہر شخص کی پہنچ میں ہو بلکہ اس کو برآمد کرکے زرمبادلہ بھی کمایا جائے.

اگر آپ ٹھیک سے سرکہ بنانے کے قابل ہوجائیں تو آپ کے گھر کے آنگن میں لگے سیب کے چار درختوں کے سیبوں سے اتنا سرکہ بنایا جاسکتا ہے جو آپکے پورے کنبے کی خوشحالی کےلیے کافی ہے.

سرکہ بنانے کا طریقہ

اچھی طرح ہاتھ صابن سے رگڑ رگڑ کر دھوئیں. پھر سیبوں کو نیم گرم پانی تقریباً اسی نوے ڈگری سینٹی گریڈ میں دو منٹ کیلیے ڈال دیں تاکہ ان پر موجود سارے جراثیم ختم ہوجائیں.

اس کے بعد جب سیب مکمل خشک ہوجائیں تو انکو صاف چھری سے چھیلے بغیر کاٹ کر آٹھ آٹھ حصوں میں تقسیم کردیں.

کچھ پانی کو الگ سے ابال کر ٹھنڈا کر لیں. شیشے کے مرتبان، یا شیشہ چڑھے مرتبان جو گھروں میں اچار کیلیے استعمال ہوتے ہیں.

کٹے ہوئے سیب اس میں ڈال کر فی کلو سیب کے حساب سے تیس گرام چینی ڈال دیں.

اب اس میں ابال کر ٹھنڈا کیا ہوا پانی وہاں تک بھر دیں جہاں تک سیب ہیں. سیب چونکہ پانی سے ہلکے ہوتے ہیں تو اوپری سیب پانی سے باہر جھانکنا شروع کردیں گے.

ان پر کوئی سوراخ دار پلاسٹک کی کولی رکھ کر منہ پر ململ کا کپڑا اسطرح باندھیں کہ سیب کا کوئی حصہ پانی سے باہر نہ رہے. یاد رہے کہ جو حصہ پانی سے باہر رہے گا اس پر پھپھوندی لگ جائے گی جو سرکہ کے ذائقہ اور کوالٹی کو خراب کرے گی

.

  • apple

اس مرتبان کو گھر کی ایک کونے میں رکھ دیں. پہاڑوں پر جہاں درجہ حرارت بیس پچیس ڈگری سینٹی گریڈ ہوگا تیس سے پینتالیس دن میں سرکہ تیار ہو گا. البتہ میدانی علاقوں میں جہاں گرمی ہوتی ہے پچیس سے پینتیس دن میں تیار ہوجائے گا.

تیار ہونے کی نشانی یہ ہے کہ تمام سیب پانی میں ڈوب جائیں گے. چینی کی مٹھاس ختم ہوجائے گی اور سرکے کی ترشی آجائے گی. سفیدی مائل بھورے رنگ کے اس سرکہ میں ہلکی سی بو بھی ہوگی جو خالص سرکہ کی نشانی ہے.

دس کلوگرام سیب سے چھ سے سات کلوگرام سرکہ تیار ہوگا.

میرے اندازے کے مطابق سرکہ کی قیمت فی کلو کسی بھی صورت پچاس ساٹھ روپے سے زائد نہیں ہوگی. اگر اچھی سی پیکنگ میں سو روپے فی کلوگرام بھی پڑے تو قیمت فروخت تین چار سو سے کیا کم ہوگی.

بلکہ اس سلسلے میں کوئی علاقائی تنظیمیں بھی بنائی جاسکتی ہیں جو نہ صرف لوگوں کو سرکہ بنانے کے متعلق تربیت دیں

بلکہ اس کے مطلوب ضروری اشیاء کا بندوبست بھی کریں اور ساتھ ہی ساتھ قیمت فروخت کا تعین کرتے ہوئے لوگوں کو اپنی پیداوار فروخت کرنے میں بھی معاونت کریں.

میں تو یہاں لاہور میں خالص سرکہ ہزار روپے فی کلوگرام خرید کر بھی خوش ہوں.

بلکہ میں ہی نہیں پورا ملک اور آدھی دنیا آپ کے سرکہ کی منتظر ہے تو پھر دیر کس بات کی ہے..؟

#pkvillage #apple #vinegar #chemicalformula #localindustries

About the author: Shah Mahar

No Gain Without Pain
I am a Muslim and Love Muhammad

Comments

No comments yet