fbpx

How to satisfy wife

charming indian bride in festive costume
Afsana

ایک غیر شادی شدہ کی ڈاٸری کا ایک صفحہ

couple walking on grass
Photo

صبح صبح آنکھ کھلی ۔ خدا کا شکر ادا کیا کہ زندہ ہوں ۔ اٹھ کر نماز پڑھی ۔ ناشتہ تیار کیا ۔ اور کھاکے آفس چلا گیا ۔

سارا دن وہیں مصروف رہا ۔ شام میں واپس آیا ۔ کھانا کھا کے سوگیا ایک شادی شدہ کی ڈاٸری کا ایک صفحہ صبح صبح میری آنکھ منے کے رونے سے کھلی ۔ میں نے برا سا منہ بنایا ۔ کمبخت رات دس بجے تک روتا رہتا تھا سونے نہیں دیتا تھا اور صبح چار بجے پھر بجنے لگتا ۔

میں نے بیگم کو جگا کر کہا ” بھلی مانس ! خدا کیلیے اس ریکارڈ کو چپ کراٶ ۔۔ “وہ بگڑ کر بولی” خدا کا خوف کرو ۔ ایک بچے کو نہیں چپ کراسکتے ۔ تم کسی کام کے ہو بھی سہی کہ نہیں ۔۔

“یہ میری بیوی کا تکیہ کلامہے کہ تم کسی کام کے ہو بھی سہی کہ نہیں ۔ پچھلے دنوں بھی اپنے بڑے بھاٸ سے بات کررہی تھی ۔ اس کے بڑے بھاٸ کی شادی کو چار سال گزر چکے اور ان کے یہاں اولاد نہیں ۔ کہنے لگی ” تم لوگوں کی اولاد نہیں اور تم لوگ چپ ہو ۔ نہ تعویز لیتے ہو نہ دم درود ۔ تم کسی کام کے ہو بھی سہی کہ نہیں ۔۔ “میں نے منے کے منہ میں فیڈر دیا اور کروٹ بدل کر سوگیا ۔ جبھی قریبی پڑوسی کے اندر سویا ناکام عاشق جاگ پڑا ۔

اس نے ملکہ ترنم نور جہاں کا درد بھرا نغمہ لگادیا ” چاندنی راتیں ۔۔ چاندنی راتیں ۔۔ سب جگ سوۓ ہم جاگیں ۔۔ تاروں سے کریں باتیں ۔۔ ہو ہو ۔۔ چاندنی راتیں ۔۔ ہو ہو ۔۔ چاندنی راتیں ۔۔ “میرا دل کیا کہ چیخ کر کہو کہ کمبخت سب جگ کو سونے دو گے تو سوۓ گا ۔ عشق میں ناکام تم ٹھہرے نیند اور جینا ہمارا حرام کررکھا ۔ کانوں پہ تکیہ رکھ لیا ۔ صبح ہونے ہی والی تھی کہ بیگم نے کمبل کھینچ لیا ۔ میری آنکھ کھلی تو کڑے تیور لیے کھڑی تھی ۔ پھنک کر بولی ” سوۓ ہی رہنا ہے کیا ۔۔ ناشتہ نہیں تیار کرنا ۔۔ ؟

“میں نے ایک ذرا لجاجت سے کہا ” آج ناشتہ تم بنالو بیگم ۔۔ ہر گھر میں بیوی کام کرتی ہے شوہر محبت کی وجہ سے اس کا ہاتھ بٹاتا ہے معاونت کرتا ہے میں بھی ایسا کردوں گا ۔۔ “اس نے ماتھے پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا ” کل پھر کوٸ انڈین فلم دیکھی ہوگی ناں ۔۔ میں کہتی ہوں شرافت راس نہیں آتی ہے کیا ۔ اٹھو ناشتہ تیار کرو ۔

غضب خدا کا تم کسی کام کے ہو بھی سہی کہ نہیں ۔۔ ” میں نے ایک گہری سانس لی ۔ پھر بس جی ناشتہ بنانا تھا وہ بنایا ۔ بچوں کو سکول کے بھی تیار کرنا پڑا ۔ انہیں ناشتہ کرایا ۔ بیگم کیلیے چاۓ بناٸ اور پھر خود ناشتہ کیا ۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ بہت کم برتن استعمال کروں کیوں کہ وہ بھی مجھے ہی دھونے پڑتے ہیں ۔

ایک بار بغیر دھوۓ آفس چلاگیا تھا واپسی پہ بیگم نے قیامت کھڑی کردی ۔ ویسے وہ خود بھی قیامت سے کمنہیں لیکن میں اسے آفت کہتا ہوں ۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ میری آفت سے ۔۔ اوہ معذرت ۔۔ میری بیگم نے قیامت کھڑی کردی ۔ پہلے تو گھڑی کے مطابق اکیس منٹ اور سترہ سیکنڈز تک مجھے ہاتھ لگنے والی ہرچیز سے بیٹا ۔ کیا چپل کیا جھاڑو کچن کے چھوٹے چمچ تک مجھ پہ کھینچ مارے ۔ اس کے بعد جب وہ تھک گٸ پھر ایک صوفے پہ بیٹھ گٸ اور شیطان کا نام لے کر گالیاں نکالنی شروع کردیں ۔ میں نے گھبرا کے سبھی برتن دھوۓ ۔کھانا بنایا ۔ بیگم تب بھی گالیاں دیے جارہی تھی ۔ کاش کہ ان عورتوں کی زبان بھی تھکتی تب سے ہر روز برتن دھوکے جاتا ہوں ۔

ایک بار اس کی کوٸ سہیلی آٸ تھی ۔ اس کے سامنے یہ ظاہر کرنے کیلیے کہ بیگم نے خود گھر سنبھال رکھا اٹھ کر کچن کی طرف چلی گٸ ۔ تھوڑی دیر بعد مجھے مسج کیا ” ادھر مرو ۔۔ “میں اچھل کر کھڑا ہوگیا ۔ اس کی سہیلی نے حیرت سے مجھے دیکھا ۔ میں کچن پہنچا تو بیگم ہاتھ میں چاۓ کا کپ لیے کھڑی تھی ۔ مجھے دیکھ کے بولی ” پتہ نہیں اسے دھوتے کیسے ہیں ۔ آ کر دھو دو ۔ پتہ نہیں تم کسی کام کے ہو بھی سہی کہ نہیں ۔۔ “میں نے وقت دیکھا ۔ نو ہوچکے تھے ۔

اگر میں معمولی کام کرنے والا ہوتا باس مجھے نوکری سے نکال چکا وتا جتنی دیر مین ان کاموں می لگاتا ہوں ۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ میں خود باس ہوں ۔ ہمارے یہاں اکثر باس کے گھر ان کے ساتھ یہی حال ہوتا ہے بس ان کی بیگم کا تکیہ کلام ذرا تبدیل ہوسکتا ہے میں آفس پہنچا دوپہر کو کال آگٸ ۔ میں میٹنگ میں تھا ۔ میں سبھی کو ہدایات دے رہا تھا کہ موبائل کی گھنٹی بجی ۔ ہال میں یکلخت خاموشی چھاگٸ ۔ کسی اور کا ہوتا میں ڈانٹ دیتا مگر موبائل میرے سامنے رکھا بجا تھا اور اتفاق سے وہ میرا ہی تھا ۔

سکرین پہ زہر لکھا آرہا تھا ۔ یہ میرا روز کا کام ہے ۔ گھر داخل ہتے میں بیگم کے نمبر پہ ہنی لکھ دیتا ہوں اور باہر نکلتے ہی کبھی آفت کبھی مصیبت ۔

آج صبح ایک خبر پڑھی کہ ایک بندہ زہر کھاکر مرگیا ۔ میں نے سوچا میں بھی توسسک سک کر مررہا ہوں تو بیگم کے نمبر پہ زہر ہی لکھ گیا ۔ اور اب وہ زہریلی مجھے یاد کررہی تھی سبھی ارکان مجھے دیکھ رہے تھے کہ میں کب کال کاٹتا ۔ مگر کاٹ کر میں ایک نٸ شامت کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا تو کال اٹھالی اور ایک ذرا رعب دار لہجے میں کہا ” ہاں بولو ۔۔ کیا بات ہے ۔۔ ؟

“سمارٹس فون مجھے اسی لیے ناپسند ہیں کہ کال اٹھاتے ہی پتہ بھی نہیں چلتا اسپیکر بھی کھل جاتا ہے ۔ دوسری طرف بیگم کی چیختی آواز پورے ہال میں گونجنے لگی ” کام کے بچے ۔۔ حرام خور انسان میرے کپڑے استری کیوں نہیں کرکے گۓ ۔

رات ہی بکواس کی تھی کہ مجھے ایک سہیلی کی شادی پہ جانا تمہیں پیار سے سمجھ نہیں آتا ۔۔ “میں بوکھلا گیا ۔ سبھی ارکان اس کی بات سن رہے تھے ۔ میں نے جلدی سے اسپیکر بند کیا پھر ‘ سوری رانگ نمبر ‘ کہہ کر کال ختم کردی ۔ سبھی نے معانی خیز نظروں سے مجھے دیکھا ۔ میٹنگ کے بعد میں نے سعید صاحب کو بلالیا ۔ سعید صاحب ہمارے آفس کے پرانے رکن ہیں ۔ شادی شدہ ہیں اور اس کے باوجود ہمیشہ خوش رہتے ہیں ۔ میں نے پوچھا ” یار سعید صاحب! آپ شادی شدہ ہیں پھر بھی خوش رہتے ۔ آپ ایسا کیا کرتے ہیں ۔۔

“سعید صاحب مسکرا کر کہنےلگے ” میں جناب وہ کرتا ہوں جو بیگم کہتی ہے ۔۔ “میں ایک گہری سانس لے کر رہ گیا ۔ شام کو گھر پہنچا چپ چاپ کھانا بنایا اور بیگم کے سامنے لاکر رکھا ۔ وہ چپ چاپ ٹی وی دیکھتی رہی ۔ مجھے یہ بھی غنیمت لگا کہ بات نہیں کررہی ۔ تھوڑی دیر بعد میں نے بیگم کو دیکھا تو دماغ کو ایک جھٹکا سا لگایاحیرت!وہ رو رہی تھی ۔

میں انگشت بدنداں رہ گیا ۔ میں نے زندگی میں پہلی بار بیگم کو روتے دیکھا تھا ۔ مجھے لگا کہ دعائيں مقبول ہوگٸیں ۔ بیگم کو بالآخر مجھ پہ رحم آہی گیا ۔ تبھی وہ ٹی وی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بولی ” اس بیچاری کے ساتھ بھی اس کی ساس ایسے ہی ظلم کررہی ہے ۔۔

“میں نے ایک گہری سانس لی ۔ کسی انڈین ڈرامے میں ہونے والی کسی بہو سے اس کی ساس کی زیادتی نے میری بیگم کو رلایا تھا اور میں ایویں سمجھ بیٹھا کہ میرے دن بدلنے والے ہیں یہ عورتیں بھی کتنی رحمدل ہوتی ہیں ۔ ٹی وی ڈرامے میں بھی کسی عورت پہ ظلم برداشت نہیں کرسکتیں اور خود اپنے مجازی خدا کب جینا حرام کیے رکھتی ہیں جوانی میں ایک شعر پڑھا تھا “جس جگہ جاٶ قصے ہیں اسی دل کے کوٸ لے کے رو رہا ہے کوٸ دے کے رو ورہا ہے”میرے خیال میں شعر کچھ یوں ہںنا چاہیے تھا

“جس جگہ جاٶ قصے ہیں اسی شادی کے کوٸ کرکے رورہا ہے کوٸ نہ کرکے رورہا” میں نے شکر ادا کیا کہ دن والی بات اسے بھول گٸ تھی ۔ اب وہ سونےگٸ ہے اور میں یہ تحریر لکھ رہا ہوںمیں نے اپنے ایک دوست سے اپنی یہ حالت بتلاٸ کہ بیگم کام بہت کرواتی ہے ۔میرا کندھا تپھتپھا کر وہ مسکراتے ہوۓ بولا ” اس پرچم کے ساۓ تلے ہم ایک ہیں ۔۔ “ایک منٹ صبر ۔۔ بیگم بلارہی ۔ ابھی آتا ہوں ( وقفہ ۔۔ )

ہاں تو جیسا کہ میں کہہ رہا تھا کہ ۔۔ اوہ ۔ پھر بیگم بلا رہیں ۔ ابھی تو منے کے کپڑے بدل کے آیا ہوں ۔ ایک ذرا آپ ہی صبر کرلیں کیوں کہ میری بیگم صبر نہیں کرسکتی وگرنہ مجھے بخوبی ادراک ہے اس کی چپل کا تلوہ کس قدر سخت ہے ۔ جب میں نہ جاٶں وہ آجاتی ہے ۔ اس کمرے کو اتنا مقدس سمجھتی ہے کہ چپل پہن کے نہیں آتی ۔ وہ ہاتھ میں ہوتی ہے ( وقفہ ۔۔ )

بیویوں کے دماغ بھی پٹھے ہوتے ہیں ۔ ابھی کہنے لگی بلب بند کردو ۔ میں نے پچھلے جمعہ کی مولوی صاحب کی تقریر یاد کررکھی تھی سو بول اٹھا ” بیگم! کچھ خود بھی کرلیا کرو ۔ تاریخ میں دیکھ لو بڑی اور عظیم شخصيات خود اپنا کام کرتیں تھیں ۔ قاٸداعظم اپنی بیوی کی خود مدد کرتے تھے اور ان کی بیوی انہیں منع کرتی رہتی تھی بیگم کو غصہ آگیا ۔ چیخ کے بولی ” کمبخت انسان شرم نہیں آتی اتنی عظیم ہستی سے اپنا موازنہ کرتے ۔ ان کی بے حرمتی کررہے ۔۔

“بیگم نامی مخلوق صرف زبان سے ہی بات نہیں کرتی ۔وہ یکلخت جھکی اور دوسرے ہی لمحے اپنی چپل سے مجھ پہ ہوائی حملہ کردیا میں بوکھلا کر پلٹا ۔ پھر باہر بھاگا ۔ دروازے کی دہلیز سے لڑکھڑا کر گرگیا ۔ چپلیں صرف دو ہوتی ہں جن سے بیگم کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا تو اس نے گلاس اٹھاکر ماراابھی بھاگ کے آیا ہوں ۔ گرنے سے بڑی چوٹ لگی ۔ پڑوسی نے ملکہ ترنم نور جہاں کا یہ نغمہ لگا رکھا ” زندگی جا چھوڑ دے پیچھا میرا ۔۔ آخر میں انسان ہوں پتھر تو نہیں ۔۔

“میرا مشورہ ہے اب زندگی کی جگہ لفظ بیگم لگاکے کسی مرد حضرت کو کہنا چاہیے ۔ اس کا یہ گانا اسے مقبولیت کی انتہا تک اور اس کی بیگم اسے قبر تک پہنچا دے گی آخر میں میں یہی کہوں گا کہ بیویاں ٹھنڈیاں چھاواں اور یہ سب میری ماں کی بددعا ہے

Create an account and Share yourphoto/ video
Please register now and meet new people beyond the World!

Comments

No comments yet