زبان میں لکنت یاہکلاہٹ کا علاج

ہکلاہٹ اتنا عام مرض نہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے اِردگِرد ایسے کئی افراد ہوتے ہیں، جو اس مرض میں مبتلا ہیں۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 7 کروڑ سے زائد افراد (تقریباً دنیا کی ایک فیصد آبادی) ایسے ہیں جو ہکلاتے ہیں یا جن کی زبان میں لکنت ہے۔
وہ گفتگو کے دوران کسی ایک حرف کی آواز کو بار بار دُہراتے ہیں، کسی لفظ میں موجود ایک حرف (عموماً شروع کا حرف) کو ادا نہیں کر پاتے اور بڑی مشکل سے اپنا جملہ مکمل کرتے ہیں۔
زبان کی اسی لکنت کے شکار افراد کی پریشانی کا احساس دِلانے کے لیے آج دنیا بھر میں زبان میں لکنت یاہکلاہٹ سے آگاہی کا عالمی دن منایا جارہا ہے، جس کا مقصد اس مرض کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔
لوگ کیوں ہکلاتے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہکلانے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں نفسیاتی اور موروثی عوامل بھی شامل ہیں۔ مثال کے طور پر گھر، اسکو ل یا دفتر میں ملنے والا ذہنی دباؤ، جینز میں پایا جانے والا کوئی نقص یا کوئی جسمانی کمی، اس کی ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں۔
بات کرنے کی اس تکلیف کا سب سے زیادہ شکار بچے ہوتے ہیں۔
دو سے پانچ سال کی عمر میں اکثر بچے ہکلاتے ہیں، یہ وہ عمر ہے جب ان کی بولنے کی صلاحیت میں اضافہ ہورہا ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پانچ فیصد بچے اس عمر میں ہکلانے لگتے ہیں۔ یہ ہکلانا عموماً وقتی ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جاتا ہے۔
انسانی آواز کئی مربوط پٹھوں کی حرکت سے پیدا ہوتی ہے۔ اس عمل میں سانس لینے، پٹھوں، ہونٹوں اور زبان کے حرکت کرنے کا اہم کردار ہوتا ہے۔ نرخرے اور اس کے اردگرد موجود پٹھوں کی حرکت کا تعلق ذہن سے ہوتا ہے۔ دماغ بولنے کے ساتھ ساتھ سننے اور چھونے کی صلاحیتوں کو بھی مانیٹر کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں میں ہکلاہٹ کی وجہ نشوونما میں تاخیر ہوتی ہے، جو عمر کے ساتھ ساتھ اکثر ختم ہو جاتی ہے جبکہ بڑی عمر کے افراد میں اس مسئلے کی وجہ فالج یا دماغ کی چوٹ بھی ہو سکتی ہے۔ ایسے میں معاشرے کو چاہیے کہ وہ ہکلاہٹ کو بیماری کے بجائے ایک ’اسپیچ ڈس آرڈر‘ سمجھے۔ اگر کسی بچے میں ہکلاہٹ کی علامات نظر آئیں تو اسے فوراً اسپیچ تھراپسٹ کے پاس لے جایا جائے تاکہ کم عمری میں ہی بچے کی ہکلاہٹ پر قابو پایا جا سکے
ہکلاہٹ کا علاج
والدین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ بچوں کی ہکلاہٹ دور کرنے کے لیے انھیں گھر میں مثبت ماحول مہیا کرنے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے کی اجازت دیں جبکہ ہر وقت انھیں ٹوکنے سے بھی منع کیا جاتا ہے۔ ایسے بچوں سے دھیمے لہجے میں دھیرے دھیرے بات کرنی چاہیے تاکہ ان پرزیادہ دباؤ نہ پڑے۔ ساتھ ہی کھل کر ایسے بچوں کی بات سننے اور سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔
اسپیچ تھیراپی میں بچوں کو رک رک کے بات کرنے، گفتگو کے دوران زیادہ سے زیادہ سانس لینے اور چھوٹے چھوٹے جملے بولنے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ بچوں سے ان کی زندگی اور ذہنی تناؤ کے بارے میں بھی بات چیت کی جاتی ہے۔ معالج عام طور پر بڑوں کو بھی اسپیچ تھراپی کا ہی مشورہ دیتے ہیں ۔ زبان کی لکنت کے لیے ادویات کا استعمال درست تصور نہیں کیا جاتا، البتہ ڈپریشن یا اسٹریس دور کرنے کے لیے ادویات دی جاسکتی ہیں۔
Comments