Inspector gulam ghouse

Inspector Gulam Gouse beaten by public in punjab

انسپیکٹر غوث کو انصاف چاہیے ؟؟؟

تحریر:-عزیزخان ایڈووکیٹ لاہور

پرسوں شام 9 اپریل کو شام چھ بجے انسپکٹر ٹریفک غلام غوث نول یونیفارم میں ملبوس جھنگ چوک میں اپنی ڈیوٹی پر موجود تھا کہ ایک تیز رفتار وین نے ایک موٹر سائیکل سوار کو ٹکر ماری اور پھر اُسکے موٹر سائیکل سے ٹکرائی

وین کو ایم این اے جھنگ غلام بی بی بھروانہ کا فرنٹ مین ،اتفاق آئرن سٹور، اتفاق کانٹا کا مالک اور جھنگ کا بزنس مین شیخ معاذ چلا رہا تھا

دوران ڈرائیونگ شیخ معاذ اپنا موبائل بھی فون سُن رہا تھا انسپکٹر کے روکنے پر شیخ معاذ آگ بگولہ ہو گیا اور غلیظ گالیاں دیتے ہوئے انسپکٹر کو تھپڑ رسید کردیا اس پر ٹریفک انسپکٹر اور شیخ معاذ کر دیا پھر اُنکے درمیان ہاتھا پائی شروع ہوگئی

وہاں پر موجود ٹریفک سٹاف نے ملزم شیخ معاذ کے اثر رسوخ کی وجہ سے اُسے کُچھ بھی نہ کہا

اکیلا انسپکٹر اُسکا ہاتھ روکتا رہا اور گالیاں کھاتا رہا اس دوران ملزم معاذ نے اپنے اور ساتھی بھی بلوا لیے جنہوں نے بھی انسپکٹر پر تشدد کیا ملزمان انسپکٹر کو ڈی پی او اور ڈی ایس پی کی دھمکیاں بھی دیتے رہے

اسی اثنا میں شیخ معاذ نے اپنے دوست سیف اُللہ بھٹی ڈی ایس پی سٹی کو کال کردی جو فوری طور پر موقعہ پر پُنچ گئے

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ملزمان ڈی ایس پی سیف بھٹی کی موجودگی میں بھی بھی انسپکٹر کو گالیاں دیتے رہے

ڈی ایس پی سیف اُللہ بھٹی کی جھنگ تعیناتی کو پانچ سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے

اور وہ ایم این اے غلام بھروانہ کا بےدام غلام ہے اور ملزم شیخ معاذ کا جگری دوست ہے مذکورہ ڈی ایس پی ایم این اے غلام بی بی بھروانہ کی مہربانی کی وجہ سے ہی جھنگ میں اتنے عرصہ سے ہی تعینات ہےڈی ایس پی نے ٹریفک انسپکٹر کی بات نہ سُنی

اور شیخ معاذ کو اپنے ساتھ دفتر لے گئے کرسی پر بیٹھایا چائے پلائی معذرت کی اور اُسے گھر بھیج دیا غلام غوث انسپکٹر نے اپنے ساتھ ہوئی اس زیادتی کی ایف آئی آر کے لیے ایک درخوست اُسی شام ڈی ایس پی سیف اُللہ بھٹی کو دی

مگر ڈی ایس پی اپنے دوست ہم نوالہ ہم پیالہ اور اپنی پوسٹنگ کو بچانے کے لیے انسپکڑ کو صُلح پر مجبور کرتا رہا

پوری رات گذر گئی اس واقعہ کی اطلاع ڈی پی او جھنگ سرفراز ورک کو بھی دی گئی مگر ملزم شیخ معاذ کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہوئی

کیونکہ ملزم کے ساتھ ایم این اے کی سفارش اور آشیر باد تھا بھلا ہو اس سوشل میڈیا کا ایک صاحب نے اس واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر لگا دی

اس میں صاف نظر آرہا ہے کہ شیخ معاذ انسپکٹر غوث نول کو گالیاں دیتا ہے اور پہلے تھپڑ بھی مارتا ہے ویڈیو وائرل ہونے پر ڈی آئی جی ٹریفک لاہور نے ڈی پی او جھنگ سے رپورٹ مانگی تو ڈی پی او اس بات سے مکر گیا کہ اُسے اس واقعہ کا علم بھی ہے

بالآخر دوسرے دن 10 اپریل کو ساڑھے نو بجے دن ایف آئی آر زیر دفعہ 353/186/506/148/149 /279 ت پ درج کی گئی

جبکہ وقوعہ ایک روز قبل شام چھ بجے کا تھا سوشل میڈیا کی مہربانی سے مقدمہ تو درج ہو گیا

مگر ملزم کو گرفتار کرنے کی ہمت کسی میں نہ تھی اب ڈی ایس پی نے نیا ڈرامہ کیا ملزم شیخ معاذ کو تھا نہ پر بلوایا اُس کی منت سمجت کی اُسے تھوڑی دیر حوالات میں بند کیا

تصویریں بنوائیں انسپکٹر غوث کو بتائے بغیر اُسکی کاغذی صُلح کر کے بااثر ملزم کو گھر بھیج دیا حالانکہ اس ایف آئی آر میں لگائی گئی تمام دفعات ناقابل ضمانت اور ناقابل راضی نامہ ہیں

پچھلے دنوں ایک عورت نے جج کو عدالت میں پرس مارا تو اُس کے خلاف 7 انسداد دھشت گردی کی دفعات لگا دی گئیں

مگر ایک باوردی انسپکٹر کو ایک بااثر ملزم نے دولت اقتدار اور پولیس افسران سے دوستی کی وجہ سے سرعام ماں بہین کی گالیاں دیں تھپڑ مارے اور اُس کی فوری رہائی ہو گئی جس سے پورے ادارے کی تذلیل ہوئی مگر 7 ATA نہ لگائی گئی

میں نے اس وقوعہ اور انسپکٹر کی صُلح پر بات کرنے کے لیے ایف آئی آر پر لکھے مدعی انسپکٹر غوث نول کے نمبر پر آج بات کی تو انسپکٹر نے بتایا کہ اُس نے کوئی صُلح نہیں کی بلکہ یہ سب ڈرامہ سوشل میڈیا کو خاموش کرانے کے لیے ڈی ایس پی سیف اُللہ بھٹی نے کیا ہے

میں انتہائی دُکھ سے لکھ رہا ہوں کہ کیا پولیس افسران اپنی ملازمت اور پوسٹنگ بچانے کے لیے اتنے بے غیرت بھی ہو سکتے ہیں

انکو خدا کا خوف بھی نہیں ہے ڈی ایس پی سیف اُللہ بھٹی قبل ازیں اے ایس آئی اسماعیل ڈب کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر برباد کر چُکے ہیں

جس کی ویڈیو اور کہانی کُچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی تھی

مگر سیاسی اثر رسوخ اور ایم این اے کی پشت پناہی کی وجہ سے کوئی انکا کُچھ نہیں بگاڑ سکا اور یہ اب تک جھنگ تعینات ہیں

عمران خان نے پولیس کلچر کو تبدیل کرنے کے بڑے وعدے اور دعوے کیے تھے

مگر آج بھی پولیس کے ساتھ ساتھ ہر محکمہ میں تبادے اور تعیناتیاں ایم این اے اور ایم پی اے صاحبان کی شفارش پر ہی ہو تے ہیں

جب آپ اس واقعہ کی ویڈیو اور شیخ معاذ کی ایم این اے غلام بی بی بھروانہ اور پولیس افسران کے ساتھ بے تکلفانہ تصویریں دیکھیں گے

تو ساری کہانی سمجھ جائیں گ

ےآئی جی پنجاب اس واقعہ کی انکوائیری کروائیں اور قصور واروں کو سزا دلوائیں

About the author: Shah Mahar

No Gain Without Pain
I am a Muslim and Love Muhammad

Comments

@peepso_user_3(Hira Memon)
Nice 👍🙂🙂
11/04/2021 2:36 pm