Justice Waqar Sahib introduction

justice waqar saith
Uncategorized
12 نومبر 
2020
 

پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کورونا کے باعث وفات پا گئے ہیں۔ ترجمان پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کورونا کے مرض میں مبتلا تھے اور گذشتہ کچھ عرصے سے اسلام آباد کے نجی ہسپتال کلثوم انٹرنیشنل میں زیرعلاج تھے۔

سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی اور سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کے بعد انھیں سزائے موت سنانے والے جج اور پشاور ہائئ کورٹ میں لاپتہ افراد اور ملٹری کورٹس سے سزا پانے والے افراد کے مقدمات کی سماعت کرنے والے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ لگ بھگ دو ہفتوں تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہے۔

وقار احمد سیٹھ کے بہنوئی محمد آصف ایڈووکیٹ نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ تین روز پہلے ان کی حالت بہتر ہو گئئ تھی لیکن آج پھر ایک مرتبہ ان کی طبعیت خراب ہوئی تو انھیں وینٹیلیٹر پر منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔

وقار احمد سیٹھ کی اہلیہ کو بھی کورونا وائرس ہوا تھا لیکن چند روز قبل ان کا ٹیسٹ منفی آیا ہے ۔

ان کی تدفین جمعہ کے روز پشاور میں ان کے آبائی قبرستان میں ہوگی۔ انھوں نے پسماندگان میں بیوہ اور ایک بیٹی چھوڑی ہے

خیبرپختونخوا بار کونسل اور پشاور ہائیکورٹ بار نے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی وفات پر شدید دکھ و افسوس کا اظہار کیا ہے۔

کورونا کے باعث ان کی ہلاکت پر پاکستان میں وکلا کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان بار کونسل نے کل یوم سوگ منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل عدالتوں میں صرف ارجنٹ اور انتہائی اہم نوعیت کے امور سرانجام دیے جائے گے جبکہ معمول کی کارروائی بند رہے گی۔

بہنیں ایسی کیوں ہوتی ہیں

ﮐﺴﯽ ﮔﮭﺮﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﻭﻏﺮﯾﺐ ﻧﺎﮔﻦ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﮉﺍ ﺩﯾﺎﮐﺮﺗﯽ

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین عابد ساقی نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘عدلیہ ایک ایسے بہادر جج سے محروم ہو گئی ہے جس نے ملک میں طاقتور ترین ادارے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فیصلے کیے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ان کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کے لیے وکلا تنظیمیں کوششیں کر رہی تھیں۔

واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے ایک درخواست بھی سپریم کورٹ میں دائر کر رکھی تھی جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے جونیئر جج صاحبان کو سپریم کورٹ کا جج بنا کر ان کی حق تلفی کی گئی ہے۔

چار ماہ سے زائد عرصے سے جمع کروائی گئی ان کی اس درخواست کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی تھی۔

بیماری سے پہلے ان کی عدالت میں زیادہ تر مقدمات ان لاپتہ افراد کے بارے میں تھے جن کے بارے میں ان کے رشتہ داروں کو گذشتہ آٹھ سے بارہ سالوں سے کوئئ اطلاع نہیں ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے انٹرمنٹ سنٹرز یا حراستی مراکز کے بارے میں مقدمے کی سماعت کے لیے محکمہ دفاع اور انٹیلیجنس کے حکام کو عدالت میں طلب کر رکھا تھا۔

ان کی عدالت میں اکثر مقدمات اہم نوعیت کے ہی رہے ہیں اور اکثر وہ عدالت میں خوش مزاجی سے مقدمات سنتے تھے۔ لاپتہ افراد اور ملٹری کورٹس کے سنائے گئے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران وہ بعض اوقات سخت سوالات اٹھا دیتے تھے۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ کی ترقی سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے ہونا تھی اور اس بارے میں انھوں نے درخواست بھی دی تھی۔ سینیئر وکیل قاضی انور کے ذریعے بھیجی گئی یہ درخواست سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے نام لکھی گئی تھی جو کہ سپریم جوڈیشل کمیشن کے چیئرمین بھی ہیں۔ اس کمیشن کی سب سے اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اعلی عدلیہ میں ججز کا تقرر کرنے کے ساتھ ساتھ سینیارٹی کے حساب سے ان کو عدالتِ عظمی میں تعینات کرنے کے بارے میں فیصلے کرتی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان سے جونیئر جج کو عدالتِ عظمی میں شامل کر کے ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ میں تعیناتی کے وضع کردہ طریقہ کار کی نفی کی گئی ہے۔

وقار احمد سیٹھ نے دو روز پہلے سپریم کورٹ میں ایک درخواست بھی دی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ میں جج کی حیثیت سے ان کی تعیناتی ان کا حق ہے ۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اس خصوصی عدالت کے سربراہ تھے جس نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے بارے میں فیصلہ سنایا تھا ۔

.#pkvillage #peshawar #highcourt #lawandorder #justicewaqarsaith

Create an account and Share yourphoto/ video
Please register now and meet new people beyond the World!

Comments

No comments yet