Introduction of Mubarak Urdu Library

مبارک لائبریری

مبارک لائبریری، سنجر پور، صادق آباد میں آویزاں “رابندرناتھ ٹیگور” کی تصویر “سید مبارک شاہ جیلانی” اور ان کے بیٹے “سید انیس شاہ جیلانی” کی زبان، کتاب اور علم دوستی کا بھرپور اظہار ہے-
کچھ منہ بولتی نایاب تصاویر، خطوط، نادر قرآنی نسخوں کے علاوہ لائبریری اردو، عربی، انگریزی اور سرائیکی کتب کا ذخیرہ 1926ء سے اپنی چار دیواری میں سموئے، فہم و فراست کے متلاشیوں کے لیے آب حیات کی دستیابی کے اسباب پیدا کر رہی ہے۔
تعریف “سید مبارک شاہ جیلانی” کے پوتوں کے لیے جو اس کتاب سے دور ہوتے مشکل دور میں اپنے دادا اور والد کی جلائی شمع کو اخلاقی روایات کی پاسداری کے ساتھ روشن رکھے ہوئے ہیں-
ٹیگور کہتے ہیں
“اگر آپ اپنی زندگی میں سورج کے ڈوب جانے پر آنسو بہائیں گے تو یہی آنسو آپ کی ستارے دیکھنے کی صلاحیت کو بھی وہیں روک دیں گے”

یہ بد نصیبی نہیں تو کیا ہے کہ میرے گھر کے کچھ فاصلہ پر ادب کا ایک سرچشمہ واقع ہے اور میں اس سے قطعاً واقف نہیں تھا حتی کہ نام تک سے آشنا نہ تھا یار یہ بات ہو رہی ہے انیس شاہ جیلانی اور ان کے کتب خانے مبارک شاہ لائبریری کی جو کہ سابقہ ریاست بہاول پور کی اولین لائبریری مانی جاتی ہے.

برطانیہ میں ’حلالہ‘ کا آن لائن بزنس
بہنیں ایسی کیوں ہوتی ہیں
لڑکی پیاری تو بہت ہے مگر تھوڑی گوری کم ہے
سید انیس شاہ جیلانی کا تعارف

جس کا سنگ بنیاد 1926 میں رکھا گیا ایم اے کے مقالہ کے دوران میں بہاول کی تاریخ پڑھ رہا تھا تو مبارک لائبریری کا تصویری تعارف ہوا جس کے نیچے سنجر پور (صادق آباد) کا پتہ درج تھا.

میں نے کچھ سوچنے سے پہلے اپنے دوست تنویر احمد کو کال کر کے اس کتب خانے کے بارے میں دریافت کیا مجھے اس بات کا مکمل یقین تھا کہ اگر اس علاقے میں اس قسم کا کوئی کتب خانہ موجود ہے تو تنویر کو اسکا ضرور علم ہو گا کیوں کہ تنویر کا ادبی ذوق با کمال اور قابل ستائش ہے تنویر نے جب اس بات کی تصدیق کی تو مجھ سے رہا نہ گیا اورکچھ دن پہلے تنویر کو ساتھ لے کر مبارک شاہ لائبریری جا پہنچا.

جہاں پر ہمارا استقبال انیس شاہ صاحب کے بڑے صاحبزادے سید ابوالکلام شاہ صاحب نے کیا .

سب سے پہلے انیس شاہ صاحب کے مزار پر حاضری دی پھر کتب خانہ کی زیارت کی جس میں کتابوں کا وسیع ذخیرہ موجود تھا.

جن میں بیشتر نادر اور نایاب کتب تھیں یہ بات عقل کو حیران کر دینے والی تھی کہ جو کام ادارے بھی ٹھیک سے نہیں کر پاتے وہ کام چند افراد کیسے سرانجام دے سکتے ہیں یقینا یہ مبارک شاہ صاحب انیس شاہ صاحب اور ابوالکلام شاہ صاحب کی کتاب سے محبت کا واضح ثبوت ہے.

آخر میں ابوالکلام صاحب نے چار کتابیں تحفتا پیش کیں ….جس کے لئے میں ان کا بے حد شکر گزار ہوں آج کتابیں مکمل کیں کتابوں کے مطالعےکے بعد اس بات کا بخوبی اندازہ ہوا کہ انیس شاہ جیلانی سچ میں ایک بڑے ادیب تھے جو چپ چاپ ہمارے درمیان سے اٹھ گئے ……

سید انیس شاہ جیلانی

About the author: Shah Mahar

No Gain Without Pain
I am a Muslim and Love Muhammad

Comments

No comments yet