نوکری پیشہ لڑکی کی زندگی کے حالات

وہ گورنمنٹ سکول ٹیچر تھی بہت زیادہ خوبصورت تو نہیں تھی مگر بدصورت بھی نہیں تھی چار بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔

بچپن میں ہی باپ فوت ہو گیا تھا بھائی زیادہ پڑھ لکھ نہیں سکے مگر اس کو پڑھنے کا بہت شوق تھا تھا۔

ماں نے بھی اس کے شوق کو دیکھتے ہوئے اس کو منع نہیں کیا یوں غربت کے باوجود بھی وہ سلائی کر کے اور ٹیوشن پڑھا کر پڑھتی رہی۔

اس طرح بالآخر اس نے ایم ایڈ کر لیا اور ایک پرائیویٹ سکول میں بطور ٹیچر جاب کر لی۔

کچھ ماہ تک پڑھاتی رہی اور ایم فل کی بھی تیاری کرتی رہی۔


اسی دوران اس کی سہیلی نے بتایا کہ گورنمنٹ سکول ٹیچر کی ویکینسی آئی ہوئی ہیں وہاں پر اپلائی کرو تو اس نے وہاں پر اپلائی کیا اور این ٹی ایس ٹیسٹ بھی دے دیا ۔

اس کی والدہ کی دعاؤں سے این ٹی ایس ٹیسٹ میں اس کے بہت اچھے نمبر آئے اس طرح وہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں بطور گورنمنٹ سکول ٹیچر بھرتی ہو گئی۔


اس کی ماں اور بھائی بھی بہت زیادہ خوش تھے اور اس طرح وہ گورنمنٹ اسکول میں پڑھانے لگی اور گھر میں خوش حالی آنے لگی گی گی اس دوران اس کے بہت سے رشتے آئے۔

مگر اس کی والدہ اور بھائی اس کو رد کر دیتے تھے تے اس کی ایک بہت بڑی وجہ اس کی تنخواہ بھی تھی۔

جو تیس ہزار سے زیادہ تھی اس کے بھائی نہیں چاہتے تھے کہ اس کی شادی ہو ۔

اور اس کی والدہ بھی یہی چاہتی تھی کہ جب تک اس کے بھائی سیٹ نہ ہوں تب تک اس کی شادی نہ ہو اسی طرح اس کی عمر کرتے کرتے 35 سال تک ہو گئی اب اس کے رشتے بھی کم آنے لگے تھے۔

اس کے چھوٹے بھائیوں نے اپنی مرضی سے شادی کرلی تھی تھی وہ ابھی بھی کبھی کبھی کام کرتے تھے مجھے گھر کا زیادہ خرچ اسی کے سر پر تھا دبے الفاظ میں ماں کو کہنے لگی تھی۔

کہ ماں میرے لیے بھی کوئی رشتہ دیکھ لو مگر ماں یہی کہتی کہ بیٹا جب تک بھائی سیٹ نہ ہوں تب تک تم ابھی کچھ صبر کرو کرو اسی طرح دن گزرتے جا رہے تھے تھے۔

ایک دن اس کی والدہ کو ہارٹ اٹیک ہوا اور اس کو پنجاب کاڈیالوجی ہاسپٹل میں لے جایا گیا۔

علاج کیا گیا اس دوران اس نے سکول سے چھٹی لے کر ماں کی بہت زیادہ خدمت کی۔

ہسپتال میں میں عورتیں اس کی ماں سے اکثر پوچھتیں کہ تمھاری بیٹی کی شادی ہوگئی ہے؟

اور اور جب وہ بتاتی کی ابھی شادی نہیں ہوئی تو وہ عورت یادیں باتیں کرتی کہ عمر کی عورتیں تو اب نانی بھی بن جاتی ہیں۔

اور اس کی ابھی تک شادی بھی نہیں ہوئی ہوئی تو اس کی والدہ کو احساس ہوا کہ اس نے اپنی بیٹی کے ساتھ بہت زیادتی کی ہے۔

ہسپتال سے گھر واپس آنے کے بعد اس کی والدہ نے اس قربانی کو کہا کہ کوئی اچھا سا رشتہ دکھاؤ بالاخر اس کو ایک رشتہ پسند آ گیا۔

لڑکا بھی ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں گیارہویں سکیل جاب کرتا تھا اس کی ماں نے چٹ منگنی پٹ بیاہ کر دیا اور وہ بیاہ کر اپنے گھر چلی گئی وہ بہت زیادہ خوش تھی تھی۔

لیکن اس کی یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی جب اس کے شوہر نے پہلی ملہی رات اس کو کہا کہ وہ موٹر سائیکل لینا چاہتا ہے تو وہ اس کو ستر ہزار روپیہ دے دوسرے دن اس نے ستر ہزار روپیہ بینک سے نکلوا کر اس کو دے دیا۔

بینک سے رقم نکلواتے ہوئے اس کے شوہر نے دیکھا کہ اس کے بینک اکاؤنٹ میں 5 لاکھ 30 ہزار روپے موجود ہے تو اس نے اس کو کہا کہ وہ اس کو کاروبار کے لیے یہ پانچ لاکھ روپے دے دیں۔

تاکہ وہ کوئی کاروبار بھی کرے پارٹ ٹائم مگر یہ اس کی کل جمع پونجی تھی وہ اس کو نہیں دینا چاہتی تھی۔

اس بات کو لے کر وہ روز اس سے لڑائی جھگڑا کرتا ہوں انہی جھگڑوں سے تنگ آ کر وہ ماں کے پاس چلی گئی تو دیکھا ۔

ماں کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے تو اس نے ماں سے کوئی بات نہیں کی اور خاموشی سے واپس چلی آئی اور گھر واپس آکر اپنے شوہر کو 5 لاکھ روپے کا چیک لکھ دیا

یا اس کے شوہر نے اس کو ہمیشہ خوش رکھنے کا وعدہ کیا اور چیک لے کر نکل گیا دو مہینے سکون سے نکل گئے

دو مہینے کے بعد اس نے پھر لڑائی جھگڑا شروع کر دیا کہ اب تم بھی تننخواہ سے گھر کے اخراجات وغیرہ نکالو ۔

جب اس نے پوچھا کہ تمہاری تنخواہ کہا ہے تو اس نے کہا میں نے اس کی کمیٹی ڈالی ہوئی ہیں تاکہ آگے کام آئے ماں کی بیماری کو دیکھتے ہوئے اس نے یہاں بھی چوں چرا نہ کی اور خاموشی سے گھر کا مکمل راشن اور بل وغیرہ ادا کرتی رہی ۔۔

ہمارے معاشرے میں جو پھالیہ خواتین کے ساتھ یہ معمولی اور عام سی بات ہے۔

ہلکہ ان کا ہر طرح سے استحصال کیا جاتا ہے اور وہ بھی اپنے ماں اور باپ کی عزت اور جان کو بچانے کے لیے یہ سب کچھ برداشت کرتی رہتی ہیں۔

اگر کوئی لڑکی اس ظلم کے خلاف بولتی ہے اور طلاق لے لیتی ہے یا خلع لے لیتی ہے تو اس کو ہی مکمل قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے ۔

کہ جاب کرتی تھی خود کماتی تھی اس لیے اپنا گھر نہیں بسا سکی ماں باپ اپنی اولاد کو خاص کر بیٹی کو اس لئے تعلیم دلواتے ہیں تاکہ کل کلاں کو مشکل وقت ہو تو وہ اپنے شوہر کا ساتھ دے سکے ۔

مگر لوگ ان کو کمائی کی مشین بنا لیتے ہیں جب کہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ نان نفقہ کی ذمہ داری اللہ تعالی نے شوہر پر ڈالی ہوئی ہے اور اس کے متعلق اللہ تعالی ان سے پوچھ گچھ بھی کرے گا ہیں .

الللہ تعالی سب کی بیٹیوں کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ان کے نصیب بہت اچھے کرے ہم سب کو بھی چاہیے۔

کہ ہم ایسی خواتین جو جاب کرتی ہیں اور ساتھ میں گھر داری کو بھی سنبھالتی ہیں کی قدر کریں کریں اور ان کے ساتھ نرمی کا سا برتاؤ کریں.

اللہ تعالی ہم سب کو دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

About the author: Shah Mahar

No Gain Without Pain
I am a Muslim and Love Muhammad

Comments

No comments yet