جنگِ ستمبر کا یہ حیران کن قصّہ

جنگِ ستمبر کا یہ حیران کن قصّہ

سیلیوٹ — ظفرجی

میں جن دنوں ھسپتال میں تھا ، وارڈ میں ایک 90 سالہ بزرگ کو لایا گیا- وہ کسی قدر زخمی اور مدد کے طالب تھے – ان کا ادھیڑ عمر بیٹا اور جوان پوتا ساتھ تھا- ضروری طبّی امداد کے بعد انہیں داخل کر لیا گیا-

اس رات وارڈ کے مریض اچھی طرح سو نہ سکے – پوری رات ان بزرگوں کی کھانسی اور ہائے ہائے میں کٹ گئ- نصف شب نرسنگ اسٹاف نے کسی طور انہیں سلایا تو مریضوں نے سکھ کی سانس لی-

دو روز بعد وہ کچھ بہتر ہوئے- سر کا زخم مندمل ہوا اور ٹانگ پہ پلستر چڑھا دیا گیا- ان کا بیٹا میرا ھم عمر تھا- ایسی تابع فرمان اور خدمت گزار اولاد رب سب کو دے- اس نے بتایا کہ بابا جی وضو کرتے ہوئے پھسل کر گرے ہیں- سر پہ معمولی زخم ہوا لیکن گُھٹنے کی چوٹ گہری ہے-

کوئ ہفتہ بعد وہ بزرگ کچھ بہتر ہوئے- بڑھاپے اور بیماری کے باوجود وہ کافی مستعد اور پرجوش تھے- خالص پنجابی بولتے اور وارڈ میں ہر وقت رونق لگائے رکھتے- ھم تنہائ کے مارے وقت گزاری کو ان کے پاس جا بیٹھتے اور وہ یادوں کی بارات لیکر ماضی میں نکل کھڑے ہوتے-

بابا جی ائیرفورس سے ریٹائرڈ تھے- وہ 65ء اور 71 کی جنگیں لڑ چکے تھے- برج پال سنگھ کا قصّہ میں نے انہی سے سنا- جنگِ ستمبر کا یہ حیران کن قصّہ شاید ہی کسی نے سن رکھا ہو – یہ الگ بات کہ بھارت آج بھی کہتا ہے ، برج پال نے سرنڈر نہیں کیا تھا ، وہ خود اترا تھا- خیر جھوٹ بولنے اور فلمیں بنانے میں بھارت سے ہمارا کیا مقابلہ-

بہرحال بابا جی ، جو اس واقعہ کے عینی شاہد تھے ، اصل حقائق بتاتے تھے:

پُتّر میں ان دنوں پسرور کے پاس گراؤنڈ سگنلنگ میں تعینات تھا- سرحد پار سے بھارتی جہاز اڑتے تو ریڈار کے ذریعے ہمیں ان کی خبر ہو جاتی– ہمارے شاھین فوراً حرکت میں آ جاتے- میرا کام جنگ کی خفیہ اطلاعات ہیڈ کوارٹر تک پہنچانا تھا-

6 ستمبر کو اطلاع آئ کہ ایک بھارتی طیّارے کو سرنڈر کر کے پسرور کی لینڈنگ اسٹرپ پر اتار لیا گیا ہے ، کچھ تکنیکی عملہ ساتھ لیکر فوراً جائے وقوعہ پر پہنچو-

ھم نکل پڑے- ائیر فیلڈ کے قریب آرمی کی چیک پوسٹ تھی- وہاں پہنچے تو فوجی جوانوں نے بتایا کہ آپ کا کوئ طیارہ ابھی ابھی یہاں اترا ہے- ھم نے کہا وہ ہمارا نہیں ، انڈیا کا طیّارہ ہے ، اور وہ اترا نہیں اتارا گیا ہے- اس پر فوجیوں نے نعرہء تکبیر بلند کیا اور پرجوش ہوگئے-

کچھ فوجی افسر اور جوان ہمارے ساتھ ہوئے اور ھم 2 جیپوں پر بیٹھ کر ائیر اسٹرپ کی طرف گئے- طیارہ دور سے ہی نظر آ گیا- یہ انٍڈین ائیرفورس کا ” نیٹ” طیارہ تھا اور اسے قیدی بنانے کا شرف فضائیہ کے ایف 104 اسٹار فائٹر کو حاصل ہوا تھا جسے فلائٹ لیفٹیننٹ حکیم اللہ اڑا رہے تھے-

ھم وہاں پہنچے تو اسٹار فائٹر اپنے شکار پر مسلسل منڈلا رہا تھا- پسرور کی یہ ائیر اسٹرپ کچّی تھی اور آس پاس کافی کھیت واقع ہوئے تھے-پائلٹ طیّارے سے اتر کر کھیتوں میں گھاس کاٹتے ایک شخص سے پوچھ رہا تھا ” ایہہ کہڑی تھاں ایں وئ ؟”

ھم نے اسے ھینڈاپ کیا اور کہا مبارک ہو سردار جی ، آپ بخیریت پسرور ایئر فیلڈ پر اتر چکے ہو-

جامہ تلاشی کے بعد اُسے جنگی قیدی بنا لیا گیا- اس کا نام برج پال سنگھ تھا- اب یہ مسئلہ آن کھڑا ہوا کہ جنگی قیدی کو رکھًا کہاں جائے کیونکہ شام ہو چلی تھی- تجویز ہوا کہ یہاں سے کچھ میل دور برگیڈئیر صاحب کا بنگلہ ہے ، فی الحال مہمان کو وہیں لے چلتے ہیں-

موبائیل فون کا دور تو تھا نہیں کہ بڑے صاحب کو اطلاع کرتے- گاڑیاں بھگاتے وہاں پہنچے- دروازہ کھٹکایا تو برگیڈئیر صاحب باہر نکلے- پہلے حیرت سے ہمیں دیکھا پھر جنگی قیدی کو حیرت سے دیکھتے ہوئے بولے:
“برج پال توں — ؟؟ توں ایتھے کی کر ریاں ؟؟

دراصل دونوں ایف سی کالج لاہور میں اکٹّھے پڑھ چکے تھے- برج پال نے شرمندگی سے سر جھکا کر کہا “بس جی دانڑے پانڑی دی گل اے –!!”

قیدی کو ٹھکانے لگانے کے بعد مقبوضہ طیارے کی فکر لاحق ہوئ- خدشہ تھا کہ رات کہیں بھارتی فضائیہ حملہ کر کے اسے تباہ ہی نہ کر دے- قریب ہی کماد کا کھیت تھا- جوانوں نے دھکا لگایا اور یوں ھم نیٹ کو کھیت کے اندر چھپانے میں کامیاب ہو گئے-مزید کیمو فلاج کےلئے اوپر کھوری شوری ڈال دی- میں قریبی تھانے جا کر دو پولیس والوں کو لے آیا اور انہیں ذمہ داری سونپی کہ رات کو کھیت کی طرف کوئ نہ پھٹکے-

اگلے روز کراچی سے سی ون تھرٹی کچھ صحافیوں کو لے کر آیا جنہوں نے جہاز کی تصاویر وغیرہ اتاریں- یہ تصاویر اگلے روز اخبارات میں چھپیں تو قوم کا جزبہ بلند ہو گیا- ادھر بھارت سرے سے مکر گیا کہ اس کا کوئ طیارہ سرنڈر ہوا ہے-

اسی روز شام کو سرگودھا ائیربیس سے فلائٹ لیفٹیننٹ سعد حاتمی تشریف لائے-وہ پاک فضائیہ کے بہترین پاٰئلٹ تھے اور لندن میں تربیّت کے دوران نیٹ کو اڑانے کا تجربہ کر چکے تھے-

حاتمی بہت پرجوش تھے- انہوں نے بمشکل رات کاٹی صبح ہوتے ہی بولے جہاز کو کھیت سے باھر نکالو ، میں ابھی اڑانا چاھتا ہوں- ھم نے کہا ایک بار معائنہ تو کر لیجئے- بہرحال معائنہ کرنے کے بعد وہ قدرے پریشان ہوئے اور کہا اسے اڑانے کےلئے تو اسپیشل بیٹری ٹرالی درکار ہوگی اور وہ ہمارے پاس نہیں ہے-

قریب ترین ٹیلی فون 10 کلومیٹر دور تھا- گوجرانوالا انجینئرنگ کمپلیکس رابطہ ہوا- وہاں سے ایک ٹیم طیارے کا معائنہ کرنے آئ اور کچھ ڈرائنگز وغیرہ بنا کر چلی گئ- اگلے 24 گھنٹے میں “میڈ ان گوجرانوالا” ٹرالی ھم تک پہنچ چکی تھی- حالانکہ یہ ایک ماہ کی ریاضت کا کام تھا- واقعی جنگیں جزبے سے لڑی جاتی ہیں-

اب تو حاتمی کا جوش جنون عروج پر پہنچ گیا- وہ ہندوستانی طیارے کو پاکستانی فضاؤں میں اڑا کر ایک نئ تاریخ رقم کرنا چاھتے تھے- چنانچہ جہاز کو کھینچ کھانچ کے کھیت سے باھر لایا گیا اور ائیر اسٹرپ پہ ری فیول کیا گیا-

لیکن اس دوران ایک نئ مشکل آن پڑی- حاتمی صاحب کاک پٹ میں بیٹھے ہی تھے کہ دور سے آرمی کی ایک وین آتی دکھائ دی- اس میں بیٹھے میجر صاحب ہمیں اشارہ کر رہے تھے کہ طیاّرے کو مت اڑانا- قریب آ کر انہوں نے بتایا کہ انڈین طیاروں نے سرگودھا ائیربیس پر حملہ کر دیا ہے- نیٹ اڑا تو دوست ، دشمن دونوں کے نشانہ پر ہو گا-

یہ وہی حملہ تھا جس میں ایم ایم عالم نے بھارتی فضائیہ کو تاریخی دھول چٹائ تھی-

اگلے دو دن تک نیٹ اڑانے کی اجازت نہ ملی- حاتمی ہرروز دس کلومیٹر سفر کر کے فون کرنے جاتے ، مگر ادھر سے ہر بار منع ہو جاتا کہ ابھی تک ائیر زون سیف نہیں ہے- حاتمی سخت بے چین تھے- بار بار اپنی انگلیاں دانتوں سے کاٹتے اور انگریزی میں کہتے ” مائ آل فرینڈز آر ان دی ائیر ، اینڈ آئ ایم ویسٹنگ مائ ٹائم ہئیر-

بہرحال تیسرے دن حاتمی نے فیصلہ کن فون کیا اور سینئر کی بات سنے بغیر چیخ کر کہا سر آئ ایم گیٹنگ دس بےبی انٹو دی ائیر ، یو کین شوُٹ می آئ ڈونٹ کیئر —!!!”

اس کے بعد وہ ٹیک آف کر گئے- پھر جہاز کو فضاء میں اچھی طرح گھما پھرا کے باحفاظت سرگودھا ائیر بیس پر اتار دیا- دشمن کے طیارے کو اپنی سرزمین پہ اڑانے کا یہ حیران کن جنگی واقعہ تھا-

اگلے روز بھارتی اخبارات نے لکھا ” پاک فضائیہ نے اپنے طیاروں پر بھارتی رنگ پھیر دیا ہے تاکہ دشمن کے حملے سے محفوظ رہ سکیں “- ہم نے کہا اجی پہچانئے ، یہ ہمارا نہیں آپ کا اپنا نیٹ طیارہ ہے- لیکن جھوٹ بولنے اور فلمیں بنانے میں بھارت کا مقابلہ کون کرے-

حکیم اللہ بعد میں پاکستانی فضائیہ کے سربراہ بنے- قیدی برج پال سنگھ کو چکلالہ منتقل کیا گیا- جب جنگی قیدی رہا ہوئے تو اپنے وطن سدھارا اور بھارتی فضائیہ میں ایئر مارشل کے عہدے پر ریٹائرڈ ہوا – دانڑے پانڑی دی گل اے جی –!!!

ہاں ، کماد کے کھیت میں چھپایا گیا نیٹ آج بھی پی -اے-ایف میوزیم میں کھڑا شاھینوں کی ھمت اور شجاعت کو سلیوٹ کر رہا ہے-
Zafar Iqbal Muhammad

About the author: Shah Mahar

No Gain Without Pain
I am a Muslim and Love Muhammad

Comments

@peepso_user_385(Rashid)
salute
06/03/2022 12:28 pm
@peepso_user_408(Anita)
Zindabad
07/03/2022 6:07 am