What is reality of Love jihad

Women

مرادآباد لو جہاد لڑکی کا اسقاط حمل کا الزام

یوپی (Uttar Pradesh) کے مرادآباد (Moradabad) کا مبینہ لو جہاد کے معاملے نے نیا موڑ لے لیا ہے۔ پولیس نے پنکی نام کی لڑکی کا مذہب تبدیل کروانے کے الزام میں خاتون کے شوہر راشد اور جیٹھ سلیم کو جیل بھیج دیا تھا۔ مرادآباد کی سی جے ایم کورٹ نے پنکی کا بیان لینے کے بعد انہیں بالغ مانتے ہوئے شوہر راشد کے ساتھ ہی رہنے کی اجازت دے دی ہے۔

کورٹ کے حکم کے بعد اب پنکی دارالامان سے اپنی سسرال کانٹھ آ چکی ہے۔ پنکی کا الزام ہے کہ بجرنگ دل کے لیڈران نے ان کو ہراساں کیا اور ضلع اسپتال میں ڈاکٹروں نے غلط انجیکشن لگاکر جبراً اسقاط حمل کرا دیا۔ پنکی نے اپنے شوہر اور جیٹھ کی جلد رہائی کی مانگ حکومت سے اور ضلع انتظامیہ سے کی ہے۔

اترپردیش کے بجنور کی رہنے والی پنکی کی عمر 22 سال ہے۔ انہوں نے پانچ ماہ پہلے مرادآباد کے کانٹھ تحصیل مقامی راشد سے اتراکھنڈ کے دہرادون میں لو میرج کر لی تھی۔ 5 دسمبر کو پنکی مرادآباد کے کانٹھ میں منصف مجستریٹ کے یہاں اپنی شادی کا رجسٹریشن کرانے دیپک نام کے وکیل کے پاس جا رہی تھی۔ اسی دوران راستے میں بجرنگ دل کے کارکنوں نے انہیں پکڑ لیا۔

الزام ہے کہ بجرنگ دل کے کارکنان جبرا پنکی اور ان کی ساس نسیم جہان کو پکڑ کر تھانہ کانٹھ لے آئے جہاں پنکی نے سب کے سامنے ہی کہا کہ وہ 22 سال کی بالغ ہے اور اس نے اپنی مرضی سے راشد سے شادی کی ہے۔

بجرنگ دل کے کارکنان اس سے تھانے میں ہی کسی پولیس کے انداز میں پوچھ۔گچھ کرنے لگے۔ پنکی کے مطابق بجرنگ دل کے کارکنان اپنی کار سے بجنور پہنچے اور وہ وہاں سے اس کی ماں کو ڈرا دھمکا کر ان سے اس کے شوہر راشد اور اس کے بھائی سلیم کے خلاف جھوٹا معاملہ درج کرایا۔

پولیس پر الزام ہے کہ اس نے بھی بغیر کسی جانچ پڑتال کے پنکی کے شوہر راشد اور اس کے جیٹھ سلیم کو جیل بھیج کر پنکی کو دارالامان بھیج دیا۔ اسی دوران پنکی کے پیٹ میں درد ہوا تو اسے ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا۔

یہ بھی ّپڑھیے
بیویاں ٹھنڈیاں چھاواں اور یہ سب میری ماں کی بددعا ہے
حادثات کی روک تھام کیسے ممکن
ڈرامہ جلن کا اختتام : ’سالی سالی ہوتی ہے اور گھر والی گھر والی ہوتی ہے‘
پاکستانی عورتیں کی پسندیدہ ڈیٹنگ ایپ

پنکی کا الزام ہے کہ اسے اسپتال میں نہ جانے کون سے ایسے انجیکشن لگائے گئے جس سے اسے بلیڈںگ شروع ہو گئی۔

ایس ایس پی نے کہی یہ بات اس معاملے میں مرادآباد کے ایس ایس پی پربھاکر چودھری نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے پنکی کی ماں کی شکایت پر مذہب تبدیلی کا کیس درج کرکے پنکی کے شوہر اور جیٹھ جو جیل بھیج دیا تھا اور پنکی کو دارالامان بھیج دیا گیا تھا۔ اب کورٹ کے حکم پر پنکی کو اس کے سسرال والوں کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

(رپورٹ: فرید شمسی)

Create an account and Share yourphoto/ video
Please register now and meet new people beyond the World!

Comments

No comments yet