man and woman hugging each other

pakistani women most used dating app

اکستان میں خواتین کو عام طور سے اپنے خاندان کے ناموس اور غیرت کی حفاظت کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے فائقہ کا کہنا تھا، ”ٹنڈر پر میں نے کچھ مردوں سے ملاقات کی جو کھلے ذہن

how to prevent harassment exist in universities

قانون کے تحت تمام صوبوں میں محتسب کے ادارے کو قائم کیا جانا تھا جس کا کام جنسی طورپر ہراساں کیے جانے والے خواتین کے کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرانا ہے۔ تاہم خیبر پختونخوا میں سات سال گزرجانے کے باوجود بھی ایسا کوئی ادارہ قائم نہیں کیا جاسک

bride

How to avoid scame from people

ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﮉﯾﮑﭩﺮ ﺟﺐ ﻧﯿﻨﺪ سے ﺟﺎگے ﺗﻮ ﺍﮔﻠﯽ ﺻﺒﺢ ﮐﮯ8 ﺑﺠﮯ ﺗﻬﮯ ﻣﮕﺮ ﺩﻟﮩﻦ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻟﮩﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺑﺎﭖ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻭﺭ ﻟﮉﻭ ﺑﺎﻧﭩﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﺲ ﺳﮯ ﻏﺎﺋﺐ ﭘﯿﺴﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﭽﻬﮧ ﺑﻬﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻬﺎ ﺍﻥ ﮐﻮ ﯾﮧ 6 ﻣﻤﺒﺮﺯ ﮐﺎ ﮔﺮﻭﭖ ﻣﮑﻤﻞ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻟﻮﭦ ﭼﮑﺎ ﺗﻬﺎ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﺴﯽ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮧ ﮔﻬﮍﯼ ﻧﮧ ﭼﯿﻦ

How to marriage function in village

۔ہماری ہنسی نہ رکے اور گھر والے کہیں اسکو لے کر آو لیکن جیسے ہم اسکا سوچتے ہم پر ہنسی کا دورہ اٹھ جاتا۔۔ خیر اسکو منا کر ہم نے کمرے میں بھیجا اور ہم خود اپنے کمرے میں جاکر سو گئے۔ اس طرح ہماری گاؤں کی پہلی شادی اختتام پذیر ہوئی۔۔۔

expensive marriage

Startling details of ‘Pakistan’s most expensive wedding’

دیس میں کسی شادی کی تقریب میں ڈیڑھ ارب روپیہ خرچ ہوا ہے. کیا ہمیں شادی مذکورہ پر ہوئی دروغ خرچی کی مذمت کرنا چاہیے یا عدم تکاثر اور سرکولیشن آو منی کا باعث بننے پر ان کی توصیف کی جائے. تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں
پہلی بات جو روپے انہوں نے خرچ کیے یقیناً ان کے ذاتی تھے، میری جیب سے تو نہیں نکلے تھے، تو مجھے کیا غرض وہ ایک ارب چھوڑ دو ارب لگائیں. دوسری بات کہ روپے ان کے پاس نہیں تھے کہیں سے ادھارلیے تھے، تو بھی مجھے کیا بھئی انہوں نے لیے ہیں تو وہی واپس بھی کریں گے

Halala online business in UK

اب ہوش کے عالم میں اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو میں ایسا کبھی نہیں کروں گی۔ میں اپنے شوہر کو واپس پانے کے لیے کسی کے ساتھ سونے کو تیار نہیں ہوں۔ لیکن ایک خاص مدت کے دوران میں اپنے شوہر کو واپس حاصل کرنے کے لیے سب کچھ کر گزرنے کو تیار تھی۔’

what is thinking of serial killer about king

وہ پیشہ ور قاتل تھا . اپنے شکار کو تیر سے قتل کرتا تھا . تیر سیدھا شکار کی گردن میں لگتا اور تیر کی نوک پہ لگے زہر سے اس کا شکار پل بھر میں موت کا شکار ہوجاتا . اسی لیے وہ ‘ زہریلا قاتل ‘ مشہور تھا
وہ بے انتہا۶ پھرتیلا بھی تھا . اس کا جتنا تعاقب کیا گیا یا پکڑنے کی کوشش کی گٸ وہ جل دے کر فرار ہوجانے میں ہمیشہ کامیاب رہا تھا . اس کا کہیں کوٸ سراغ نہیں ملتا تھا . ایک بار ایک جاسوس نے فرضی دشمن کو

Dangerous women

Dangerous women

میں بے تحاشہ رویا،اس کا سائیں بہت بڑا تھا،اس کی رسائی جس تک تھی وہ تو دوجہانوں کا رب تھا.وہ جس کی ایک روٹی مجھ پر بھاری تھی وہ اس کے لئے کیا نہیں کرسکتا تھا.میں واقعی ڈر گیا تھا.میں آج بھی ڈرتا ہوں کہیں میرے حق میں اس نے کوئی بددعا نہ کردی ہو.