سہاگ رات کو شایان شان کیسے منائیں

سہاگ رات کو شایان شان کیسے منائیں

جنس مخالف میں کشش انسان زبردستی خود میں پیدا نہیں کرتا بلکہ یہ ایک قدرتی اور فطری عمل ہے۔۔۔
عورت ہو یا پھر مرد ،
حقیقت یہی ہے کہ نوجوانی میں قدم رکھتے ہی اسکا سب سے پہلا دھیان مخالف جنس کی طرف جاتا ہے کبھی ارادی کبھی غیر ارادی۔۔

جوں جوں نوجوانی دھیمی آنچ پر پک کر جوانی کی طرف سفر کرتی ہے انسان کے دماغ کی بتیاں زیرو واٹ سے سو واٹ تک پہنچ جاتی ہیں۔ وہ تجسس کے مارے اپنے ارد گرد نظر رکھتا ہے، پہلے وہ اپنے اردگرد ، پاس پڑوس ، سکول فیلوز ، کزنز ، حتی کہ اگر نر ہو تو اپنے سکول ٹیچر پر بھی نظر رکھتا تھا۔

دور میں جدت آنے کی وجہ سے اب اسکے پاس مشاہدات کے لیے ہر وقت ایک چھوٹا سے ڈبہ موجود ہوتا ہے جس میں وہ دنیا بھر کی سیکس انفارمیشن دیکھ سکتی ہے یا سکتا ہے۔۔

سو اب یہ دھیمی آنچ پر ابلنے والا سسٹم ختم ہو کر سٹیم روسٹ میں تبدیل ہو چکا ہے ، جن لڑکیوں کے راستوں میں خط پھینک کر مہینوں جواب کا انتظار کیا جاتا تھا اب موبائل کی وجہ سے لہموں میں یس / نو کا فیصلہ لیا جاتا ہے ورنہ دوسری تیار۔

لب لباب یہ کہ اب فیلنگز شدت اختیار کر چکی ہیں، کچھ تو غیر فطری طریقے سے اپنے آپ میں گھٹ رہے ہوتے ہیں اور کچھ فطری لیکن ناجائز ذرائع ڈھونڈھ لیتے ہیں تو تقریبا دونوں جنسوں کے خواب ایک جیسے ہی ہوتے ہیں سہاگ رات۔۔۔

دونوں طرف سے جس رات کا انتظار برسوں بے چینی سے کیا جائے ۔ مزاروں پر منتیں مرادیں ، دھاگے تالے باندھے جاہیں اور پھر
اچانک کچھ دانشور ( بظاہر لڑکی ) کے ہمدرد بن کر یہ کہہ دیں کہ اس رات کو بخش دیں ، سراسر غلط کہہ رہے ہیں۔۔ یہ رات بخشنے کی نہیں بخشوانے کی ہوتی ہے۔
اسی رات کو شگنوں والی رات کہتے ہیں اسی رات کو ارمانوں والی رات کہتے ہیں اسی رات کو خوابوں کی تعبیر کی رات کہتے ہیں اسی رات کو نئی زندگی کی طرف جانے والی پہلی صبح کی رات کہتے ہیں۔۔

یہی وہ رات ہوتی ہے جس کے بارے میں سوچ سوچ وہ مرنے والے ہو جاتے ہیں جو اگلی ساری زندگی یاد رہ جانے والی رات ہوتی ہے۔

اسی رات کی تیاری کے لیے ابٹن ، مہندی ، خوشبویں ، گلاب ، موتیا ، چنبیلی لگایا جاتا ہے ، لاکھوں کا لہنگا چولی ، نولکھا ہار ، زیورات ، ہزاروں کی جوتی ، پرس اور سو دو سو کا کپڑا دیا جاتا ہے اور آپ کہتے ہیں اس رات کا مس کر دیں، قربان قربان۔۔

لڑکوں لڑکیوں کسی کی باتوں میں آ کر اپنے سب سے خوبصورت لہموں کو ضائع نہ کر دینا ، یاد رکھو جب بھی اپنے رشتے کو مضبوط بناو گے وہ پہلی بار ہی ہو گا لیکن وہ پہلی رات ہرگ، نہ ہو گی اور ساری زندگی دل میں کسک رہے گی۔
آہ دانشورو آہ ۔۔۔
قبرستان بھرے پڑے ہیں ان لوگوں سے جو سہاگ رات ضائع کر کے بھی مر گئے۔۔
ثانیہ سلطان

About the author: Shah Mahar

No Gain Without Pain
I am a Muslim and Love Muhammad

Comments

@peepso_user_134(Azamkhan)
Nice
29/05/2021 9:02 am