bride

What is perfect bride age for marriage

پہلا سوال ہوتا ہے کہ لڑکی کی عمر کیا ہے؟

لڑکیوں کے اذہان میں بچپن سے ہی یہ بات ڈال دی جاتی ہے –

کہ جتنا مرضی پڑھ لکھ جاؤ، کامیابی وقت سے اچھی جگہ شادی کرنے میں ہی ہے۔

تعلیم مکمل کرتے ہی ہاتھ پیلے ہو جائیں تو زبردست اور اگر دوران تعلیم رشتہ ہو جائے تو کیا ہی کہنے۔

اگر لڑکی کی عمر بڑھ جائے تو رشتہ کرنے کے سلسلے میں اس کی قدر و منزلت گھٹنے لگتی ہے۔

زیادہ تر رشتوں میں پہلا سوال بھی یہی کیا جاتا ہے کہ لڑکی کی عمر کیا ہے؟

اب شادی محض اسٹیج پر سجی ہوئی گڑیا بن کر بیٹھنے کا نام ہے۔

ایک اچھا سا فوٹو شوٹ ہو جائے، جسے بار بار سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا جائے اور حسن کی داد وصول کی جائے۔

دلہن کا کم عمر اور حسین لگنا شرط اول ہے۔

bride
beauty bride

پتلی کمر، تیکھے نقش اور گورا رنگ یکجان ہوں تو زمانے سے واہ واہ بٹورنے میں مزید سہولت رہے گی۔

اب اس بات سے کسی کو چنداں فرق نہیں پڑتا کہ شادی کا اصل مقصد کیا ہے۔

کیا یہ دو انسانوں کے ملاپ اور زندگی کی خوشیاں و غم ساتھ نبھانے کا نام نہیں؟

اگر شادی کا اصل مقصد محبت اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزارنا ہے تو یہ حق تو سب انسانوں کا ہے۔

پھر تو یہ وہ حق ہے، جو کسی خاص عمر اور جسمانی خدوخال کے ساتھ منسلک نہیں کیا جا سکتا۔

یعنی اگر دلیل اور منطق کو مانا جائے تو ایک پچپن سال کی عورت کو زندگی کی خوشیوں کا وہی حق حاصل ہے، جو ایک پچیس سال کی لڑکی کو ہے۔

اگر ان سب باتوں میں کسی قسم کی صداقت ہے تو ہمیں کسی مطلقہ یا ادھیڑ عمر کی خواتین کی شادی سے کیا مسئلہ ہے؟

ہم نے اپنے ذہنوں میں شادی کا جو خاکہ تشکیل دے رکھا ہے،

کیا زیادہ عمر والی خواتین اس پر پورا نہیں اُترتیں؟

یہ بھی پڑھیے:
ٹو فنگر ٹیسٹ کیا ہے؟
گاؤں کی دلہن کی پہلی رات کا قصہ
مطلقہ مسلم خواتین سے حلالہ کے نام پر ہزاروں پاؤنڈ وصول کر رہی
عورت کیلئے ایک شادی کا حکم کیوں

ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں تبدیلی آ رہی ہے۔ اس بات سے لاکھ انکار کیا جائے –

لیکن حقیقت یہی ہے کہ اب بہت سے لوگوں نے فرسودہ اور دقیانوسی خیالات کو چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے۔

ہمیں بہت سی ایسی شادیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں، جو ہمارے خاکے سے الگ ہیں۔

خاتون کے گھر کے باہر فائرنگ کر کے شادی

مطلقہ یا بیوہ عورتیں اپنی تمام عمر معاشرے کے لیے قربان کرنے کو تیار نہیں۔ وہ اپنی زندگی کی خوشیوں پر اپنا حق گنوانا نہیں چاہتیں۔

اسی طرح اگر کسی کی جوانی میں شادی نہیں ہو پائی تو یہ کیوں ضروری ہے

کہ وہ بعد میں بھی بیاہ سے دور ہے کہ ‘عمر نکل گئی’؟

غالباﹰ آپ کی نظروں سے بھی اداکارہ اور اینکر نادیہ خان کی شادی کی تصاویر گزری ہوں-

جن میں ان کے بچے بھی شامل تھے۔

ان خوبصورت تصاویر پر سوشل میڈیا کو یہ فکر پڑ گئی کہ انہوں نے دوبارہ شادی کیسے کر لی؟

ان کی سابقہ شادی کے بارے میں گفتگو شروع ہو گئی۔

آخرکار ہمارے ہاں تعلیم، صحت، اور مہنگائی کے مسائل تو ہیں نہیں لہذا ہم کسی کی شادی پر ہی بات کریں گے –

کیا یہ سب سے اہم اور سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ 

خدا جانے ہم کب یہ بات سمجھیں گے کہ شادی محض اسٹیج پر کھڑے ہو کر رشتے داروں کے ساتھ مووی بنوانے کا نام نہیں بلکہ دو انسانوں کا سنگم ہے۔

زندگی کا ساتھ ہے، محبت کا حق ہے، دلوں کا ملاپ ہے۔

اور جہاں تک میرے علم میں ہے کسی مذہب یا آئین میں کہیں یہ نہیں لکھا ہے

کہ شادی کے لیے ایک خاص عمر اور وقت درکار ہے۔

بلکہ نکاح اور شادی میں آسانیاں پیدا کرنے کی تلقین ہے۔

کہیں اس بات کا ذکر بھی نہیں کہ اگر کسی کے ساتھ خدانخواستہ کوئی سانحہ یا غلطی ہو گئی ہو تو وہ تمام عمر اسی کو بھگتے۔

خوشی ہر انسان کا بنیادی حق ہے، جسے جس چیز میں خوشی ملے اسے حاصل کرنے دیجیے۔

یہ تو دلوں کا میل ہے اور دل کی خوشی کا ہی کھیل ہے۔ کوئی فریج میں پڑا کریم کا ڈبہ تو نہیں جو کچھ عرصے میں ایکسپائر ہو جائے گا۔

خوش رہنے یا شادی کرنے کی کوئی میعاد نہیں۔ بعض اوقات کسی کی خوشی میں خوش ہونے سے بھی خوشی ملتی ہے-

وقت ملے تو اس نسخے کو ضرور آزمائیے گا۔

About the author: Shabnam Nazli
I am also happy

Comments

No comments yet