fbpx

what is thinking of serial killer about king

Society and Culture

دوراندیش زہریلا قاتل

-اس نے تیر کمان میں چڑھایا کر چلہ کھینچا اور نشانہ لیا


-وہ ایک عمارت کی کھڑکی میں کھڑا تھا . چہرے پہ سیاہ نقاب تھا . صرف روشن چمکدار آنکھی ظاہر تھیں . وہ پیشہ ور قاتل تھا .

serial killer

اپنے شکار کو تیر سے قتل کرتا تھا . تیر سیدھا شکار کی گردن میں لگتا اور تیر کی نوک پہ لگے زہر سے اس کا شکار پل بھر میں موت کا شکار ہوجاتا .

اسی لیے وہ ‘ زہریلا قاتل ‘ مشہور تھا


-وہ بے انتہا۶ پھرتیلا بھی تھا . اس کا جتنا تعاقب کیا گیا یا پکڑنے کی کوشش کی گٸ وہ جل دے کر فرار ہوجانے میں ہمیشہ کامیاب رہا تھا .-

– اس کا کہیں کوٸ سراغ نہیں ملتا تھا .

– ایک بار ایک جاسوس نے فرضی دشمن کو قتل کرنے کیلیے اس سے رابطہ کرنا چاہا . اسی رات زہریلا قاتل اس جاسوس کے کمرے میں گھس آیا .

-اس کی گردن پر ایک بیحد چمکدار دھاک والا خنجر رکھ کر اس نے نہایت سرد لہجے میں کہا
-” اس خنجر پہ زہر لگا ہے .

میں چاہوں تو پل ڈبھر میں تمہاری شہ رگ کاٹ دوں –

-مگر میں جانتا ہوں دوسرے شہر میں تمہاری ایک بیوی دو ننھی بیٹیاں ہیں . میں ان پہ ترس کھا کے تمہیں بخش رہا ہوں –

-اور یہ تنبیہہ کررہا ہوں میرے راستے میں نہ آنا –

-ورنہ تمہاری بیوی کو مجھے بیوہ بنانے پر افسوس ہوگا .. “


-اس سے رابطے کا کوٸ ذریعہ نہیں تھا . بس شمالی حصے میں ایک دیوار پہ اپنا نام لکھ دینے سے وہ رات کے کسی پہر نام والے کے پاس پہنچ جاتا تھا-

اور اس سے شکار کے بارے آگاہی حاصل کرتا .

– ایک بار شہر کی انتظامیہ نے ایسے ہی طریقے سے اسے گرفت میں لینا چاہا تھا .

– اس رات کو پہلے ہی داروغہ کو پیغام ملا کہ جو بھی سپاہی قتل ہوگا بس کا ذمہ دار داروغہ ہوگا .

🤷‍♂️اور اس رات اکیس سپاہی قتل ہوۓ ۔

-کسی کو کچھ علم نہیں ہوتا تھا کہاں سے موت ان پہ جھپٹی . بس وہ خنجر کی چمک دیکھتے پھر ان کی گردنوں سے خون بہہ رہا ہوتا .


-زہریلا قاتل دہشت کی علامت تھا . ایک بار کچھ لوگوں نے زہریلے قاتل کے ساتھی بن کے لوگوں کو لوٹنا شروع کیا . اگلے دن وہ سب بازار میں الٹے لٹکے ہوۓ تھے اور لوٹا ہوا مال وہیں پڑا تھا .
-زہریلا قاتل عموماً امرا۶ کو ہی شکار بناتا تھا .

– لیکن اس بار بس کا شکار ان امرا۶ سے کہیں بڑھ کر تھا . اس بار اس کا شکار اس ملک کا بادشاہ تھا


-قصہ کچھ یوں تھا کہ سابقہ بادشاہ کی موت واقع ہوگٸ تھی . نیا بادشاہ بہت سخت گیر تھا . اس نے بہت سارے نۓ احکامات جاری کیے .

-اس نے براٸیوں کے خلاف سخت کارواٸیاں کیں . جوۓ کے اڈے قحبہ خانے اس نے جڑ سے اکھاڑ پھینکے . ایسے میں ایک روز شمالی دیوار پہ بن حاتم کا نام لکھا تھا .

کتے اور ریچھ کی لڑا‏ئ ویڈیو وائرل
سندھ پولیس کے افسرانکاؤنٹر سپیشلسٹ
برے پھنسے ایک پولیس آفیسر کی آپ بیتی
نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان جو اپنے بیٹے کے ہاتھوں قتل ہوئے

– بن حاتم ایک سراۓ کا نام تھا . زہریلا قاتل وہاں پہنچا تو اسے ایک بے حد موٹا اور بے ڈھنگا آدمی نظر ملا .

-موٹا آدمی اس قدر اندھیرے میں تھا کہ اس کی شکل نظر نہیں آرہی تھی . اس نے اپنی پھٹی آواز میں کہا


” میں اس بات کا صدق دل سے قاٸل ہوں کہ تم انتہا کے جانباز انسان ہو . جان پہ کھیل کے جان لیتے ہو .

میرا ایک کام کردو . تمہیں تمہارے وزن کے برابر سونا ملے گا .. “
-زہریلا قاتل خاموش کھڑا رہا . کافی دیر ایسے ہی خاموشی طاری رہی پھر اس موٹے بندے نے بے چین ہوکر کہا


” تم پوچھو گے نہیں میں کسے قتل کروانا چاہتا ہوں .. ؟ “
-زہریلا قاتل خاموش رہا . اس کی تیز چمکدار آنکھیں اس موٹے بندے پہ جمی تھیں اور وہ پلکیں جھپکاۓ بغیر اسے دیکھے جارہا تھا .

-موٹا بندہ بار بار یوں کان کی طرف ہاتھ لے جاتا جیسے مکھی اڑا رہا ہو . موٹے بندے نے بالآخر خود ہی کہا.


” انکار کرنے سے قبل سوچ لینا شاید تمہیں یہاں سے زندہ نکلنا نصیب نہ ہو . ہوسکتا ہے یہاں اندھیرے میں ان گنت تیر انداز تمہیں نشانے پہ لیے ہوۓ ہوں .

-بہرکیف میں اس ملک کے نۓ بادشاہ کو قتل کروانا چاہتا ہوں . اس کی وجہ سے مجھے ہر معاملے میں بے حد نقصانات ہورہے ہیں . میں بادشاہ کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتا ہوں .

-تو کیا میں یہ توقع رکھوں زہریلا قاتل اپنے نام کی لاج رکھے گا .. “
-اتنا کہہ کر موٹے بندے نے ایک بار پھر یوں ہاتھ لہرایا جیسے کان سے مکھی اڑا رہا ہو .

زہریلا قاتل چند لمحے خاموش کھڑا رہا . پھر اس نے نہایت گھمبیر آواز میں کہ
” سونا کہاں ہے .. ؟ “


-موٹے بندے نے ایک زور دار تالی بجا کر کہا
” میں جانتا ہوں تم معاوضہ پہلے لیتے ہو کیوں کہ تم کبھی ناکام نہیں ہوتے .

باہر میرے دو آدمی دو گھوڑوں پہ دو بوریوں میں سونا لیے کھڑے ہیں تم لے جب سکتے ہو .. “


-اور اب زہریلا قاتل بادشاہ کا نشانہ لیے کھڑا تھا
-بادشاہ عوام سے خطاب کررہا تھا . بادشاہ ایک نوجوان شخص تھا .

-بادشاہ کے لباس میں وہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا .

اس کے ارد گرد وزرا۶ کھڑے تھے . عجیب بادشاہ تھا .

خود بھی دھوپ میں کھڑا تھا وزرا۶ کو بھی کھڑا کررکھا تھا . کچھ وزیروں کے چہروں پہ بے زاری سی تھی .

نیا بادشاہ عوام میں بے حد مقبول تھا کہ کیوں وہ ملنسار تھا . لوگوں کے مساٸل خود ہی سنتا اور انہیں فی الفور حل کرنے کے احکامات جاری کرتا تھا .

-اس کے دریا دلی اور رحمدلی کے چرچے تھے اور اب وہی رحمدل بادشاہ ایک سفاک قاتل کے زہریلے تیر کے نشانے پر تھا


-بادشاہ ایک آدمی کی بات غور سے سن رہا تھا جب اس کے اطراف کھڑے وزرا۶ مین سے ایک وزیر نے جھک کر اس کے کان میں کچھ کہا
بادشاہ نے سن کر اثبات میں سر ہلایا
-وزیر پیچھے ہٹ کر کھڑا ہوگیا . زہریلے قاتل کی نگاہیں اسی وزیر پہ جم گٸ تھیں . وہ شاہی خلعت میں تھا مگر وہ خلعت اسے تنگ پڑرہی تھی .

-زہریلے قاتل کی نگاہیں اس پہ اس لیے نہیں جمی تھیں کہ اس نے شاہی خلعت پہن رکھی تھی . اس نے اس وزیر کو کان پر سے مکھی اڑاتے دیکھا تھا .

– وہ چہرے سے قدرے بے چین نظر آرہا تھا . اور وقفے وقفے سے یوں ہاتھ لہرا رہا تھا جیسے مکھی اڑا رہا ہو
-زہریلے فاتل نے ایک نظر بادشاہ کو دیکھا . وہ مسکراتے ہوۓ ایک بوڑھے کسان کی بات سن رہا تھا .

– پاس ہی کسان کی چھوٹی بیٹی کھڑی بادشاہ کی تلوار کے دستے کو چھورہی تھی . ایک سپاہی نے اسے روکنا چاہا مگر بادشاہ نے ایک ہاتھ کے بشارے سے سپاہی کو روک دیا


-زہریلے قاتل نے ایک گہری سانس لی اور پھر تیر نشانہ لے کر چھوڑ دیا
-تیر سنسناتا ہوا بادشاہ کے ایک طرف کھڑے موٹے وزیر کی گردن میں اتر گیا . وزیر کی آنکھوں میں ایک لمحے کیلیے حیرت لہراٸ مگر پھر وہ لڑکھڑا کر گر گیا.


-زہریلے قاتل نے ایک گہری نظر سے بادشاہ کو دیکھا . وہ کافی فاصلے پہ تھا -مگر یا حیرت!
-بادشاہ بھی سر اٹھاۓ زہریلے قاتل کو دیکھ رہا تھا جڈکہ ہر طرف وزیر کے قتل سے بھگڈر مچی تھی .

بادشاہ زہریلے قاتل کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا . اس کے چہرے پہ ایک سکون تھا . پھر وہ ہلکے سے مسکرایا .

– زہریلے قاتل کو اس کی مسکراہٹ پہ اچنبھا ہوا . پھر اس نے ایک سپاہی سے ایک کاغذ لے کے اس پہ کچھ لکھتے دیکھا .

-وہ چپ چاپ کھڑا بادشاہ کی یہ کارواٸ دیکھتا رہا . بادشاہ نے لکھنے کے بعد وہ پرچہ ایک تیر کے گرد لپیٹا . پھر اس نے وہ تیر ایک کمان میں چڑھایا .

-اس نے ایک نظر دور سامنے ایک کھڑکی میں کھڑے سیاہ نقاب میں ملبوس اس جامد شخص کو دیکھا اور یکلخت بڑی پھرتی سے اس کا نشانہ لے کر تیر چھوڑ دیا .

-تیر سنساتا ہوا زہریلے قاتل کے پاس دیوار میں آکے گڑ گیا
-وہ ششدر رہ گیا.


-بادشاہ نے نشانہ بھی نہیں لیا تھا اور تیر چلادیا تھا . تیر بالکل اس کے پاس دیوار میں پیوست ہوا تھا .

-بادشاہ چاہتا تو تیر اس کی گردن میں بھی اتار سکتا تھا مگر اس نے ایسا نہیں کیا
-اس نے دیوار سے تیر نکالا . اس پہ لپٹا کاغذ کھول کے پڑھا . لکھا تھا.


” میں احسان مند ہوں میری جان نہیں لی تاہم تمہیں کوشش کرکے دیکھنا چاہیے تھا –

-کہ میں اپنے وزیر کی سازش سے آگاہ ہوں کہ نہیں .

-میں اپنے ملک کے ایک بہترین تیر انداز کو اپنی دوستی قبول کرنے کی دعوت دیتا ہوں .. “
اس نے سر اٹھا کر دیکھا.


بادشاہ اس کسان کی بیٹی کا ہاتھ تھامے کسی سپاہی سے کچھ کہہ رہا تھا
ایک ماہ بعد بادشاہ کے ذاتی دستے میں ایک نامعلوم فوجی کا اضافہ ہوا .

– جسے بعد میں بادشاہ نے اپنا ذاتی محافظ بنالیا
-وہ زہریلا قاتل تھا اور یہ بات بس بادشاہ کو ہی معلوم تھی .

-ٹھیک ایک ماہ بعد جب وہ فوج میں بھرتی ہونے گیا –

بادشاہ نے اس سے مصافحہ کرتے ہوۓ مسکرا کے کہا تھا
” تم نے بڑی دیر کردی دوستی قبول کرنے میں .. “
.. !!-اور سچ مچ زہریلا قاتل حیران ہوۓ بغیر نہ رہ سکا تھا-

کہ بادشاہ نے اسے دیکھتے ہی پہچان لیا تھا

۔ history #king #story #urdu story#pkvillage#

Create an account and Share yourphoto/ video
Please register now and meet new people beyond the World!

Comments

No comments yet