fbpx

why german people live naked?

food red bikini love
Society and Culture

آج جرمن لوگ برہنہ ورزش کرتے ہیں اور یہاں تک کہ ننگے پہاڑ پر چڑھتے ہیں۔

woman in black tank top and blue denim jeans sitting on brown sand
girl at sea

برلن میں چار سال رہنے کے بعد، میں نے جرمنی میں عریانی کی ثقافت کو قبول کرنا سیکھا، جو مڈویسٹ سے مختلف تھی جہاں میں پلا بڑھا تھا۔

امریکی ثقافت میں عریانی کا تعلق جنسی تعلقات سے ہے جبکہ جرمنی میں روزمرہ کے کچھ حالات میں ایسا ہونا غیر معمومی بات نہیں۔

مجھے بھاپ کے غسل کے دوران برہنہ ہونے، تیراکی کے دوران بے لباس ہونے کا تجربہ تھا اور یہاں تک کہ میں ایک بار مساج کے لیے بھی گیا اور میں نے فوراً ہی اپنا تولیہ اتارا اور برہنہ ہو گیا، مساج کرنے والے نے مجھے یاد دلایا کہ عام طور پر اسے امریکیوں کو بے لباس ہونے کے لیے کہنا پڑتا ہے۔

لیکن جیسا کہ کہاوت ہے کہ عوامی مقام پر عریانی کے ساتھ پیش آنے کے پہلے تجربے کو آپ کبھی بھی فراموش نہیں کریں گے۔ میں نے اپنے پہلے تجربے میں نیو کولون کے علاقے برلن کے جنوب میں واقع ہوسنہائڈ پارک میں دوپہر کے وقت روشن سورج کے نیچے بے لباس لوگوں کا ایک گروپ دیکھا۔ اس کے فوراً بعد ہی دوستوں سے بات کرنے اور گوگل پر چھان بین کے بعد میں نے پایا کہ برلن میں پارک یا ساحل سمندر پر ننگے لوگوں کے ایسے گروہوں کو دیکھنا ایک معمول ہے۔

بستر پر نیم دراز ہوتے ہمیشہ کی طرح عادتا میں نے اس کے نمبر پر ٹیکسٹ
جس عورت سے آپکی شادی ہوئی تھی وہ بڑی خطرناک عورت تھی
برطانیہ میں ’حلالہ‘ کا آن لائن بزنس
پاکستانی عورتیں کون سی ڈیٹنگ ایپ کا استعمال کرتی ہیں

اور جمہوریہ ویمار کے دور میں 1918 سے 1929 تک بورژوازی اقلیت کے لوگ برہنہ جسمانی ثقافت اپنائے ساحلوں پر دکھائی دیے۔

لیکن ننگے افراد کے جن اجتماعات کا میں نے مشاہدہ کیا اس کا شہوانی، شہوت انگیز لذتوں میں ملوث ہونے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ عریانی کی ثقافت کی ایک مثال تھی۔

فری باڈی کلچر یا مختصر طور پر ایف کے کے، جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک میں زندگی کا اہم حصہ ہے لیکن عوامی مشق کے طور پر نیوڈازم یا عریانی انیسویں صدی کے آخر میں اپنائی گئی۔ مثال کے طور پر سپین کے ساحل پر عریانی کے برعکس، جرمنی میں عریانی کا کلچر حوصلہ افزائی کرنے والے مقاصد کی ایک وسیع رینج کا احاطہ کرتا ہے۔ ماضی میں، فطرت میں مکمل طور پر برہنہ ہو جانا بغاوت اور دباؤ سے آزادی کا اظہار تھا۔

برلن کی فیری یونیورسٹی میں عصری تاریخ کے اسسٹنٹ پروفیسر آرینڈ بورکیمبر کا کہنا ہے کہ ’جرمنی میں عریانی ایک پرانی روایت ہے۔ بیسویں صدی کے اختتام پر نامیاتی کھانوں، جنسی آزادی، متبادل ادویات اور فطرت کے قریب ایک سادہ زندگی کو فروغ دینے والی زندگی میں اصلاحی فلسفہ مقبول ہوا۔‘

بائرکمبر کہتے ہیں ’عریانی اس وسیع تحریک کا حصہ تھی جو صنعتی جدیدیت کے ردعمل کے طور پر ابھرا اور جدید معاشرے کے خلاف تھا جو انیسویں صدی کے آخر میں نئی ​​تبدیلیوں کے ذریعہ تیار کیا گیا تھا۔‘

پوٹسڈیم میں لبنز سینٹر برائے عصری تاریخ کے ایک مورخ ہنو ہاکموت کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحی تحریک برلن جیسے بڑے شہروں میں مقبول تھی حالانکہ اس نے سادہ دیہی زندگی کی خوبیوں کو فروغ دیا۔

اور جمہوریہ ویمار کے دور میں 1918 سے 1929 تک بورژوازی اقلیت کے لوگ برہنہ جسمانی ثقافت اپنائے ساحلوں پر دکھائی دیے۔

باؤرکمبر کے مطابق اس وقت ایک آزادی کا احساس تھا جو 1878 سے 1918 تک آمریت پسند معاشرے اور جرمن سلطنت کی قدامت پسند اقدار کے بعد انھیں ملا۔

ان برسوں میں مشرقی جرمن میں باغی پولیس کے گشتوں پر نگاہ رکھتے ہوئے ساحل پر ننگے بیٹھے رہے، جب تک کہ 1971 میں، جب ایرک ہنکر برسر اقتدار آئے، تو پھر سے سرکاری طور پر ایک بار پھر عریانی کی اجازت دی گئی۔ بیرکمپفر کے مطابق ہنکر دور کے دوران، مشرقی جرمنی نے ملکی اور خارجہ امور میں کھلی پالیسیاں اپنانے کا عمل شروع کیا، جو خود کو بیرونی دنیا کے لئے زیادہ قابل قبول بنانے کا ایک طریقہ تھا۔

مشرقی جرمنی کے باشندے ابتدائی برسوں میں جرمن پولیس اہلکاروں کی عدم موجودگی میں چپکے چپکے برہنہ غسل لیتے رہے تاہم 1971 میں ایرک ہنکر نے اقتدار سنبھالنے کے بعد باضابطہ طور پر برہنہ ہونے کی ثقافت کی اجازت دے دی۔

باؤرکمبر کا کہنا ہے کہ جمہوریہ مشرقی جرمنی نے ہنکر کے دور میں نیوڈازم کے لیے عالمی منظوری حاصل کرنے کے لیے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر کھلی پالیسیاں اپنانا شروع کیں۔

کچھ جگہوں پر جرمنی کے ایسے ساحل اور پارکوں کی ایک فہرست موجود ہے جہاں لوگ برہنہ ناچتے، سوتے اور دھوپ سینک سکتے ہیں یا جنگلات میں ننگے پہاڑ چڑھ سکتے ہیں۔ یہ لوگ برلن کے ایڈولف کوچ سپورٹس کلب میں جا سکتے ہیں اور برہنہ یوگا، والی بال، بیڈ منٹن اور ٹیبل ٹینس کا تجربہ کر سکتے ہیں۔

بہت سے طریقوں سے عریانیت کی ثقافت کی وراثت مسافروں کو ان اقدار کی بصیرت فراہم کرتی ہے جو مشرقی جرمنوں کو متحد کرتی ہیں۔

’میں اسے اپنے بچوں تک پہنچانے کی کوشش کرتی ہوں تاکہ وہ اپنے جسم کو قبول کریں اور اسے ظاہر کرنے یا عوامی طور پر برہنہ ہونے پر شرمندہ نہ ہوں۔

سٹرنکوف کا خیال ہے کہ ’ننگے جسموں کو اس طریقے سے دیکھنا جبلت یا خواہشات کو جنم نہیں دیتا بلکہ لوگوں کے اندر دیکھنے اور سیکھنے میں مدد دیتا ہے نہ کہ ظاہری شکل کو۔ اپنے کپڑے اتارنے پر، آپ کو صرف جسم ہی نہیں فرد نظر آتا ہے۔‘

’اگر آپ لوگوں کو برہنہ دیکھنے کی عادت ڈالتے ہیں تو آپ ان کی ظاہری شکل و صورت کے بارے میں کم ہی سوچیں گے۔ میرے خیال میں یہ ثقافت مشرقی جرمنی میں مزید پھیل گئی ہے۔ ہم لوگوں کو ان کی ظاہری شکل سے نہیں پرکھتے بلکہ ہم ہمیشہ اندر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

Create an account and Share yourphoto/ video
Please register now and meet new people beyond the World!

Comments

No comments yet