why girls runout from home

عائشہ گھر سے کیوں بھاگی ہوئی کی کہانی

ہمارے پڑوسی انکل ایک سکول ٹیچر تھے۔ تنخواہ ان کی معمولی تھی، مگر بہت ہی دیانت دار اور سیدھے سادھے آدمی تھے۔

تبھی سارا محلہ ان کی عزت کرتا تھا۔ ان کا گھر چھوٹا سا تھا۔

تین مرلے کا مکان جس میں صرف دو کمرے اور آگے صحن اتنا تھا کہ بمشکل چار ، چار پائیاں آتی تھیں۔

انکل کے آٹھ بچے تھے۔ چھ بیٹیاں اور دو بیٹے ابھی چھوٹے تھے اور پرائمری سکول میں پڑھنے جاتے تھے۔

ماسٹر صاحب کے ریٹائر منٹ کے دن قریب آچکے تھے انہیں اپنی دو بچیوں کی شادی کی فکر تھی جبکہ ان کی چار لڑکیوں کی شادی ہوچکی تھی ۔

مگر انکی شادیوں پر اٹھنے والے اخراجات نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔

انکل نے کافی قرض لے رکھا تھا یہ سوچ کر کہ جب ریٹائرمنٹ پر رقم ملے گی تو قرض ادا ہوجائیگا۔

لیکن ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی ماسٹر صاحب دل کادورہ پڑھنے سے انتقال کر گئے۔ ان کی اچانک وفات کا سب کو بہت صدمہ تھا۔ گھر میں پانچ افراد کھانے والے اور کمانے والا کوئی نہ تھا۔

زرعی زمین اتنی چھوٹی تھی کہ بغیر رکھوالے کے پیداوار گھر پہنچنی مشکل تھی اور رکھوالا اللہ کو پیارا ہوچکا تھا۔

ماسٹر صاحب کی پانچویں بیٹی کا نام عائشہ تھا۔

وہ بہت حساس لڑکی تھی ا س نے اپنی باپ کی وفات کا گہرا صدمہ لیا .

اور رو ، رو کر ہر وقت ہلکان رہتی تھی وہ میری کلاس فیلو سہیلی اور بچپن سے پڑوس میں رہتی تھی۔

میں اس کی دل جوئی کے لئے ہر روز اس کے گھر جاتی تھی۔

اسے میں سمجھاتی کہ اگر تم ہمت ہار دو گی تو چھوٹے بہن بھائیوں کا کیا بنے گا؟

تمھاری بیچاری والدہ کس کی طرف اب دیکھیں گی تم حوصلے سے کام لو اور اپنے کنبے کی باگ ڈور سنبھال لو۔

تمھارے بھائی ابھی بہت چھوٹے اور نادان ہیں تو گھر کی ذمہ داری اب تمھارے پر ہی ہے۔ میرے ہمت دلانے پر اس نے حالات کی سنگینی کا احساس کر لیا۔

بڑی بہنیں شادی شدہ تھیں مگر وہ بھی کوئی امیر گھرانوں میں نہیں بیاہ کے گئی تھیں کہ بیوہ ماں اور چھوٹے بہن بھائیو ں کی مالی مدد کر سکتیں۔

بلکہ وہ روز بچوں سمیت ان کے گھر آجاتیں اور ان کے اخراجات بھی ماں کو اٹھانے پڑتے تھے کبھی ایک بچو ں سمیت آجاتی میکے رہنے ،

تو کبھی دوسری دو دن کے لئے رک جاتی ، یوں چاروں باری باری آجاتی تھیں۔

اگر بہنیں خود نہ آ پاتیں تو ان کے شوہر بچوں کو لے کے آجاتے اور کہتے کہ بچے ضد کر ر ہے تھے ،

تنگ کر رہے تھے کہ نانی کے گھر جانا ہے گویہ یہ چاروں بڑی بہنیں لمحے بھر کے لئے بھی ماں اور چھوٹی بہنوں کو فارغ نہ رہنے دیتی تھیں۔

گھر میں ہر وقت میلے کا سماں رہتا تھا۔

جس کی وجہ سے ان سب کی پڑھائی بھی متاثر ہوتی تھیں یہ بہنیں مالی امدا د تو کیا کرتیں ،

الٹا بیوہ ماں کو مقروض کر جاتیں، بچے نقصان کرتے کبھی پانی کی ٹینکی خالی کر دیتے ،

کبھی پانی بہاتے ، کبھی صابن ضائع کرتے، کبھی ٹافیاں مانگتے ، کبھی کچھ عمدہ کھانے کی فرمائش کرتے ۔

عورت کیلئے ایک شادی کا حکم کیوں
بہنیں ایسی کیوں ہوتی ہیں
برطانیہ میں ’حلالہ‘ کا آن لائن بزنس
مطلقہ مسلم خواتین سے حلالہ کے نام پر ہزاروں پاؤنڈ وصول کر رہی
مرد مرد کے ساتھ سیکس کیسے کر سکتا ہے

کسی کو سوئیاں کھانی ہوتی تھیں تو کسی کو چاول کھانے ہوتے تھے۔ یہ ساری چیزیں مفت میں تو نہیں آجاتی تھیں۔

عائشہ کی چاروں بڑی بہنیں گھر کے نزدیک تھیں لیکن جب ماں سے ملنے آتیں تو پھر واپس جانے کا نام نہ لیتی تھیں۔

سچ ہے کہ میکہ دور ہو یا نزدیک جب تک ماں باپ زندہ ہوں بیٹیوں کے لئے میکے کی کشش باقی رہتی ہے۔

عائشہ یہ کبھی نہ سوچتی تھیں کہ وہ بہنیں اپنی ماں کے لئے آتی ہیں۔ یا اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے لئے آتی ہیں تاکہ ان کے بچوں کے ساتھ ماں کا دل بہلتا رہے۔ خیر جب تک ماسٹر صاحب زندہ تھے ۔

شادی شدہ بیٹیوں اور ان کے بچوں کی وجہ سے دل چھوٹا نہیں کرتے تھے. وہ یہ سمجھتے تھے کہ بیٹیاں اگر میکے نہیں جائیں گے تو پھر کہاں جائیں گی ۔

تو گھر میں ہونے والے اخراجات ماسٹر صاحب پورے کرتے تھے .مگر اب عائشہ پر اس کی بہنوں اور ان کے چھوٹے بچوں پر ہونے والے اخراجات کھلنے لگے تھے۔

تین مرلے کا مکان میں پانچ افراد کا سمانا مشکل تھا کہ ساری بھانجے اور بھانجیوں کا آنا جانا ان کے سکون کو درہم برہم کر دیتا تھا۔

اوپر سے بڑی بہنیں چار پائیوں پر بیٹھ جاتیں اور حکم چلاتیں کہ یہ کر دو وہ کر دو ۔

وہ خود کا م کو ہاتھ نہ لگاتیں اور سارے کام کا بوجھ بھی عائشہ اور اس کی چھوٹی بہن پر ڈال دیتیں ۔ وہ اپنے بچے بھی خالاؤں کے حوالے کر دیتیں کہ ذرا ان کا دھیان رکھنا خود آرام فرماتیں۔

ماں ان کے لئے کھانا تیار کرنے کی فکر میں پڑ جاتیں اور عائشہ اور اس کی چھوٹی بہن بچوں کو سنبھالتے نڈھال ہوجاتی تھیں۔ انہیں وقت نہ ملتا کہ وہ کتابوں کو ہاتھ لگاتیں۔

یوں بہنوں اور بھانجوں کا ہر وقت آجانا عائشہ کو نہ بھاتا تھا۔ اس بات کا ان بہنوں کو قطعی احساس نہ تھا۔ یہ ایک دو د ن کی بات نہ تھی کہ عائشہ سے برداشت ہوجاتی۔

یہ تو روز کا معمول تھا۔ دو دن چین سے گزرتے کہ پھر ان بہنوں میں سے کسی ایک کو میکہ یاد آجاتا۔

وہ اپنی طرف سے تو بیوہ ماں کی دل جوئی کے لئے آتی تھیں .

لیکن عائشہ کے نزدیک وہ ماں کا سکون برباد کرکے چلی جاتی تھیں ماں بہر حال ما ں ہی تھی بیٹی اور دامادوں کو منع نہ کر سکتی تھیں مگر عائشہ اور اس کی چھوٹی بہن کا ناک میں دم ہوگیا تھا۔

وہ چڑ چڑی اور بد مزاج ہوتی جارہی تھیں بڑی مشکل سے عائشہ نے ایف اے مکمل کیا۔

اور ایجوکیشن ٹریننگ میں داخلہ لے لیا۔ خیر جب اسے سند ملی تو ماسٹر صاحب کے دیرینہ دوست کی سفارش پر عائشہ کو نوکری مل گئی۔ مگر وہ ایک دیہات کے سکول میں ٹیچر کے طور پر تعینات ہوئیں۔ اب مسلہ شہر سے دیہات جانے اور واپسی کا تھا ۔ راستہ آدھے گھنٹے کا مگر بہت دشوار تھا۔ شہر سے پکی سڑک کے بعد اس دیہات میں سواری نہیں جاسکتی تھیں۔

میل بھر پیدل چلنا پڑتا تھا۔ شہر سے پہلے بھی دوٹیچرز وہاں جاتی تھیں ,

جن کو سڑک سے زمین دار کی گاڑی سکول تک لاتی اور پہنچاتی تھی۔اس کے بعد سڑک سے انہوں نے ایک ویگن لگوائی تھی جو انہیں لے کر شہر جا تی تھی۔چھے ماہ یہ سلسلہ بخوبی چلا۔جو دوسری ٹیچر تھی وہ شادی کی چھٹیوں پر دو ماہ کے لئےچلی گئی۔

اب عا ئشہ اکیلی رہ گئی اور وہ سکول بھی چلاتی اور بچیوں کوبھی پڑھاتی۔

مختلف کلاسوں میں کل پچیس تیس لڑکیاں تھیں وہ ساری جماعتوں کی بچیوں کو ایک ہی کلا س روم میں بٹھا دیتی اور ہر ایک کو سبق دیتی جاتی۔

یہ سلسلہ اس وقت تک چلا جب تک پہلی ٹیچر شادی کی چھٹیوں سے واپس نہیں آگئی۔ سکول کا مالک ایک زمیندار تھا۔ اس کی گھر کی خواتین بہت ہی عمدہ اخلاق کی حامل تھیں۔ وہ ٹیچرز کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ چھٹی کے بعد دونوں ٹیچرز ان کے گھر چلی جاتی۔ وہ کھانا کھلا کر جیپ میں سڑک تک بھجواتیں اور پھر وہاں ویگن ان کی منتظر ہوتیں۔ جلد ہی عائشہ کی دوستی زمیندار کی بہن سے ہوگئی۔

جو غیر شادی شدہ تھی۔ وہ عائشہ سے عمر میں دگنی تھی۔ مگر سنجیدہ طبیعت اور فہم و فراصت کی مالک تھیں۔ خاندان میں ا س کے جوڑ کا رشتہ نہ ہونے کے باعث اس کی شادی ابھی تک نہ ہوئی تھی۔ وہ تنہائی کا شکار رہتی تھی ایسے میں چند گھڑیاں عائشہ کے ساتھ گزارنے پر اسے خوشی حاصل ہوجاتی تھی۔ زمیندار کی بہن کا نام کنول تھا۔ کنول کو عائشہ اتنی پسند آگئی تھی کہ وہ اصرار کر کے اسے روکنے لگی۔

جبکہ اسے گھر پہنچنے کی جلدی اپنی والدہ کی وجہ سے ہوتی تھی۔

اب اکثر ایسا ہونے لگا شہر والی ویگن خالی واپس چلی جاتی او ر دونوں ٹیچر ز کو کنول بی بی اپنی سوار ی میں شہربھجوا دیتی ۔

ایک دو بار ایسا ہونے کے بعد دوسری ٹیچر نے تو کنول بی بی کے اصرار کے باوجود معذرت سے کام لیا۔

اور چھٹی کے فوراً بعد گھر کی راہ لیتی۔ مگر مروت میں عائشہ پھنس جاتی ۔

ہر دوپہر کو ٹیبل پر کھانا لگاہوتا اور عمدہ کھانے کے ساتھ لذیز چائے ان کی منتظر ہوتی۔ کچھ دیر گپ شپ چلتی یہاں تک کہ شام کے چار بج جاتے۔

تب کنول اپنے بھتجیے کے ساتھ اس کو کار پر گھر بھجوا دیتی۔ ماں کا عائشہ کا روز روز دیر سے گھر آنے پر اعتراض ہونے لگا ۔ ماں کو محلے والوں کا خوف بھی ستانے لگا۔ جب عائشہ کی ماں نے یہ اصرار کیا کہ تم یہ ملازمت چھوڑ دو ۔

ورنہ محلے میں ہماری بد نامی ہو کر رہے گی تو عائشہ نے کنول بی بی کو ما ں کی ناراضگی سے آگاہ کیا۔

اس بات پر عبداللہ کی والدہ اور بہن کنول بی بی کے ہمراہ عائشہ کی ماں کے پاس آئیں۔ اور مدعا بیان کیا کہ ہمیں عائشہ پسند ہے۔

لڑکی پیاری تو بہت ہے مگر تھوڑی گوری کم ہے

آپ سے رشتے کی درخواست ہے.

عائشہ کی ماں نے ان خواتین کی خوب آؤ بھگت کی اور اس کے ساتھ معذرت کی کہ وہ عائشہ کی شادی غیر ذات میں نہیں کر سکتیں۔

بیٹی کا رشتہ وہ اپنے خاندان میں ہی کرینگی ۔ برادری کی مرضی کے بغیر بیٹی کی شادی غیروں میں وہ نہیں کر سکتیں۔ ہم آپ کی برادری کے بڑوں کو منا لینگے۔ پر وہ نہیں مانیں گے۔ آپ کسی سے یہ مدعا بیان نہ کریں۔ ورنہ عائشہ کی ملازمت ختم کرا دینگے۔ اور پھر ہمارے گھر کا دال پانی کیسے چلے گا۔ یہ تو وجہ انکار کی نہیں بن سکتی۔

وہ لوگ تو آپ کی کفالت نہیں کرتے اور ہم نے امیری غریبی کا فرق مٹا دیا ہے۔ کیونکہ ہمیں آپ کی بچی پسند آگئی ہے۔ خواتین کے جواب پر عائشہ کی ماں نے بولا آپ مجھے مہلت دیجئے۔ میں اپنے دامادوں اور بیٹیوں کو اعتماد میں لے لوں۔

ہاں آپ سوچ لیجئے۔ ہم دوبارہ آجائیں گے۔ وہ تو یہ کہ کر چلی گئی۔ مگر عائشہ کی ماں کو سو چو ں کے سمند رمیں دھکا دے گئیں۔ صاف ظاہر تھا جس لڑکے کے لئے رشتہ مانگ رہی تھیں اسی نے عائشہ کو پسند کیاتھا۔ ور نہ ان کا اور ماسٹر صاحب کے گھرانے کا تو کوئی جوڑ ہی نہ تھا۔ ماں یہ سوچتی تھیں۔

کہ لاکھ لڑکی پسند آجائے اگر غریب گھر سے ہو تو امیر اس کو بہو بنا نے میں ہزار بار سوچتے ہیں۔

عبداللہ زمیندار کا لاڈلہ بیٹا ہے۔ وہ اس کی خوشی کو پس پشت نہیں ڈال سکتے ۔

عائشہ کی ماں نے تو یہاں تک سوچ لیا تھا کہ شائد وہ اپنے بیٹے کی دل کی خوشی کو پورا کرنے کے لئے رشتہ مانگ رہے ہیں۔

چند دن کے بعد جب عائشہ دل سے اتر جائے گی تو پھر وہ دوسری شادی کروا دینگے۔ عائشہ کی ماں اسی فکروں میں مری جاتی تھی۔ کہ رشتہ کر لوں تو ان کے معیار کی خاطر مدارات اور شادی کے اخراجات کہاں سے لاؤنگی۔

داماد کی آؤ بھگت کے لئے اس کی حیثیت کے مطابق لوازمات کیسے مہیا کر پاؤنگی۔ عائشہ البتہ بہت خوش تھی ۔ دل سے چاہتی تھی کہ س کا رشتہ اس زمیندار گھرانے میں ہوجائے۔ اپنی بڑی بہنوں کی بے حسی اور گھر کے ماحول سے وہ بہت زیادہ تنگ آگئی تھی۔ اسے اپنی غربت ستانے لگی تھی۔

وہ چاہتی تھی کہ ماں اس کا رشتے سے انکار نہ کرے کئی بار اسے عبداللہ نے دیہات سے گھر پہنچایا تھا۔

خاتون کے گھر کے باہر فائرنگ کر کے شادی
بْرے پھنسے
ترپردیش میں چار مرد لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے

تو راستے میں جو باتیں ہوتی تھیں ان دونوں نے آپس میں ایک دوسرے کو پسند کر لیا تھا ۔ وہ جلد از جلد اپنے گھر کے اس بے سکون ماحول سے چھٹکارا پانا چاہتی تھی۔ ایسے امیر کبیر گھر کا رشتہ تو قسمت سے ملتا ہے۔ اور ماں جانے کن سوچوں میں پڑ گئی تھی۔

عائشہ نے مجھ سے کہا کے امی کو سمجھاؤ آخر اس کے رشتے میں کیا خرابی ہے۔ وہ کس وجہ سے ڈرتی ہیں جب سے ہوش سنبھالا ہے غربت ہی دیکھی ہے۔ چاروں بڑی بہنیں سانس نہیں لینے دیتی۔ ہم دن رات پریشان رہتے ہیں۔ کیوں کہ گھر کا ماحول ہی پریشان کن ہے۔

میں پر سکون زندگی چاہتی ہوں۔ ایسی جگہ جانا چاہتی ہوں جہاں کم سے کم دال روٹی کی فکر سے بند ہ آزاد ہو۔ آج کے ساتھ کل کی فکر نہ لگی ہو۔

ایک دن کہنے لگی میں بہت خوش تھی کہ میرے لئیے اتنا اچھا رشتہ آنے پر اماں خوش ہونگی ۔ عقل سے کام لینگی۔ اور اس رشتے کو نہیں ٹھکرائیں گی ۔ مگر میری ماں نہیں مان رہی تو بتاؤ میں کیا کروں۔

واقعی خالہ جی غلطی کر رہی ہیں ایسے رشتے ہم جیسی لڑکیوں کو کب ملتے ہیں۔ غرض کہ خالہ جی نے فراصت سے کام نہ لیا۔ زمیندار کے گھر کی عورتیں کئی بار آئیں مگر خالہ جی انکار کرتی رہیں۔ بلآخر ایک عجیب واقعہ رونما ہوا۔

About the author: Shabnam Nazli
I am also happy

Comments

@peepso_user_93(Kalsoom Bibi)
Very nice 🙂
09/04/2021 8:34 pm