کیا اب بھی نا چیخوں کہ نہیں، یہ میرا جسم ہے؟

کیا اب بھی نا چیخوں کہ نہیں، یہ میرا جسم ہے؟

کیا ابھی بھی نا کہوں کہ میرے جسم پہ میرا حق ہے؟

میں خود کو اس قصائی کے حوالے نہیں کرنا چاہتی بلکہ کسی دہقان کو دینا چاہتی ہوں۔

جو اپنے لمس سے کدھائی، صفائی اور بیج بونے تک کے عمل تک مرحلہ وار گزرتا ہے اور اس کے بعد فصل پکنے تک راتوں کو جاگ کر میری پیاس کا بھی خیال کرتا ہے۔

میں اور بڑی ہوتی ہوں تو یہ رفتار تمنا بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اتنی کہ مجھے مجھ سے نفرت ہونے لگتی ہے، اس جسم کے دیدار کی تمنا تمہاری خواہش کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔

میں قابو نہیں بھی آتی تو تم مجھ پہ گندے الزامات لگاتے ہو۔ مجھے فتح کر کے بنجر اور قابض زمینوں کی طرح چھوڑ دینا چاہتے ہو۔

کیا اب بھی نا چیخوں کہ نہیں، یہ میرا جسم ہے؟سبب نہیں بنانا۔

کنواری صرف لڑکی ہی کیوں ہو؟

یہ میرا جسم ہے، مجھے بھی اپنے باپ کے شفقت بھرے لمس کی ضرورت ہے۔ مجھے بھی اپنے بھائیوں کے اعتمادی لمس کی ضرورت ہے۔

اگر یہ دونوں طاقتیں مجھے بھی طاقت عطا کر دیں.

تو میں پورے اعتماد کے ساتھ اس کی طاقت بن جاؤں گی، جس کو میں چاہتی ہوں اور جس کی طرف میرا جسم خود لپکتا ہے،

یہ میرا جسم ہے مجھے بھی علم ہے۔ یہ کسی کی طرف مکمل خود سپردگی کی تمنا رکھتا ہے۔

میں تمہاری جبری محبت کے سامنے اپنے جسم کی بے توقیری نہیں کرنا چاہتی۔

کیا ابھی بھی نہ بولوں کہ میرا جسم ہے مجھے پتا ہے؟

یہ آوارگی، بے راہ روی اور گلی گلی نہیں جانا چاہتا۔ تمہاری تنہائیوں کے خواب پورے نہیں کرنا چاہتی۔

میں بے نام بچے پیدا کر کے گلیوں میں نہیں پھینکنا چاہتی۔

بے گھر کی چاردیواری کے اندر ہی نہیں رہنا چاہتی۔

جسم کا خون اور ہڈیوں کا گودا دے کر درجنوں بچے پیدا کر کے مرنا نہیں چاہتی۔

بیٹے کی خواہش میں بیٹیوں کی قطار میرا جسم بھی چھلنی کرتا ہے جب کہ سپرم تمہارے ہوتے ہیں۔

نہیں چاہتی کہ تم میرے جسم پہ سوداگری کرو۔

کسی مجبوری کے عوض بکنا نہیں چاہتی.

جب تم نے مجھے صدیوں جسم رکھا ہے، تب تمہارے فلسفے کہاں تھے؟

میں بھی مکمل انسان تھی۔ اب جب میں نے جسم کا نعرہ تم سے بے زار ہو کر لگایا ہے، تم کیسے جاگ گئے ہو؟

میں تمہارے جسم سے بیزار ہو گئی ہوں تو سڑکوں پہ آکر چیخی ہوں کیونکہ تم کو تنہائیوں میں میری آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔

 خدارا مجھے مکمل انسان سمجھو سیکس ڈول مت سمجھو۔

مجھے ضرورت کی چیز مت سمجھو۔ مجھے تمہارا پورا وجود چاہیے۔

مجھے محبت کرنے کا حق دو اور میری طرح دو کہ میرے فطری تقاضے اور ہیں۔

مجھے اپنے ساتھ رہنے کا حق دو۔ ایک چھت تلے اکھٹے، خوشی و غمی کے ساتھی بن کر، نا کہ کمزور لمحوں کے ساتھی بن کر۔

میرے کمزور لمحے میں تم صدیوں سے مجھے تنہا چھوڑ جاتے ہو۔

جب تم نے صدیاں میرے پورے وجود کو نظر انداز کرتے گزار دیں تو اب یہ خالی پتلا اتنا ہی کھنکے گا جتنا تم سن رہے ہو۔

مجھے دھوکا مت دو کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے اگر تمہارا سماج تم کو میرا نہیں ہو نے دیتا۔ تمہاری مجبوریاں ہیں،  تو میری جان میرا بھی وہی سماج ہے وہ بھی مجھے تم سے تنہائیوں کے درد کی اجازت نہیں دیتا۔

سچ بول دو۔ اور سچ سن لو۔

About the author: Shah Mahar

No Gain Without Pain
I am a Muslim and Love Muhammad

Comments

@peepso_user_50(sajid Malik)
Very nice
06/03/2021 6:38 pm